بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تجارت‌اور‌مالی‌معاملات‌میں‌دھوکادہی

کمپنی‌سے‌کرایہ‌زیادہ‌لے‌کر‌آگے‌دینے‌کے‌بجائے‌کچھ‌رقم‌خود‌اِستعمال‌کرلینا

سوال:۔

میں ایک بحری جہازوں کے اِدارے میں ملازم ہوں، ہمارے اِدارے کے جہاز کراچی آتے ہیں اور یہاں سے مال ساری دُنیا میں بڑے بڑے کنٹینروں میں لے جاتے ہیں۔ ہمارا کام یہی کنٹینر بُک کرنا ہوتا ہے، ہم اس مال کا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ کمپنی کا ایک ایکسپورٹ منیجر جو ہمیں مال دیتا ہے، کمپنی کی لاعلمی میں زیادہ کرایہ دے کر ہم سے یہ واپس لے لیتا ہے جو کہ اس کی جیب میں جاتا ہے، ہماری کمپنی کو بھی اس پر اِعتراض نہیں ہوتا کیونکہ یہ رقم ہمارے طے شدہ کرایہ سے زیادہ آئی ہوتی ہے،، اس لئے ہم اسے واپس کردیتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ ہم ملازم لڑکے جب یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں کمپنی سے ہمیں اچھا کرایہ مل سکتا ہے تو ہم وہاں زیادہ کرایہ لے لیتے ہیں اور اپنی کمپنی کو یہ بتاکر کہ واپس کرنا ہے، کمپنی سے پیسے نکلواکر اپنی جیب میں رکھ لیتے ہیں، اس میں منطق یہ ہے کہ کرایہ دینے والی کمپنی بھی خوشی سے دیتی ہے، کیونکہ اس سے اچھا کرایہ کسی اور شپنگ کمپنی نے نہیں دیا ہوتا۔ دُوسرا وہ لوگ یہ کرایہ بلکہ اس سے بھی زیادہ مال بیچتے ہوئے اپنی قیمتِ فروخت میں شامل کردیتے ہیں۔ دُوسرا یہ کہ ہماری کمپنی کو بھی ایک طے شدہ کرایہ مل جاتا ہے، جس میں اس کو منافع ہے۔ اس لئے بقول ہم لڑکوں کے کہ دونوں فریقوں کو کوئی نقصان نہیں اس لئے اپنی جیب میں رکھ لیتے ہیں، لیکن اگر اس بات کا ہماری کمپنی کو پتا چل جائے تو ہماری نوکری بھی جاسکتی ہے۔ سوالات جو پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ آیا یہ پیسہ جو ہم رکھتے ہیں حلال ہے یا حرام؟

سوال:۔

اگر غلط ہے تو پچھلا پیسہ یا مال جو بنایا اور خرچ کیا، اس کا کیا اِزالہ ہے؟

سوال:۔

اگر ایکسپورٹ منیجر کمپنی کا یا کوئی تیسرا فرد جو ہم سے پیسے لے رہا ہے، اپنے حصے میں سے ہمیں کچھ دیتا ہے، تو یہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟

سوال:۔

میں نے یہ کام بہت مجبوری میں شروع کیا تھا، کیونکہ ہم پر کافی قرض ہوگیا تھا۔

جواب:۔

حرام ہے۔(۱)

جواب:۔

اتنی رقم کمپنی کے حوالے کردی جائے۔(۲)

جواب:۔

وہ آپ کو کیوں دے گا؟ کیا اس کو پیسوں کی ضرورت نہیں؟

جواب:۔

مسئلہ اُوپر لکھ چکا ہوں، مجبوری کو آپ جانیں۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة١٨٨۔ قال الْإمام القرطبی: من أخذ مال غیرہ لَا علٰی وجہ إذن الشرع فقد أکلہ الباطل۔ (تفسیر قرطبی ج:۲ ص:۳۲۳ طبع دار إحیاء التراث العربی بیروت)۔ وفی معالم التنزیل للبغوی ج:۲ ص:۵۰ طبع قدیمی: ’’بالباطل‘‘ بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔
  2. (۲) والحاصل ان علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔