تجارتاورمالیمعاملاتمیںدھوکادہی
ایسےسیٹھکےپاسملازمتجائزنہیںجہاںوضواورغسلکاپانینہملے
سوال:۔
میں جس دُکان میں ملازم ہوں، اس کے مالک کا گھر شہر سے باہر ہے، میں شام کو مالک کے گھر چلا جاتا ہوں، انہوں نے مجھے جو کمرہ دیا ہے اس میں پانی بالکل نہیں ہے، لوگ پینے کا پانی دُوسری جگہ سے لاتے ہیں، نہ غسل خانہ، نہ اِستنجا ہے، کئی نمازیں میں نے پینے کے پانی سے وضو کرکے پڑھی ہیں، اور بعض دفعہ پانی نہ لانے کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکا۔ جب کبھی غسل فرض ہوتا ہے تو دوپہر کو کرنا پڑتا ہے، اگر روزے کی حالت میں شام کو غسل فرض ہوجائے تو دوپہر تک یعنی تین بجے دُوسرے دِن تک ہم روزہ اس ناپاکی کی حالت میں رکھ سکتے ہیں؟
جواب:۔
آپ کے لئے اس سیٹھ کے ساتھ ملازمت کرنا ہی جائز نہیں، یا اپنی مجبوری اس کو بتائیں اور پانی کا اِنتظام کروائیں، واللہ اعلم!

