تجارتاورمالیمعاملاتمیںدھوکادہی
خریدوفروختمیںدھوکاکرنا
سوال:۔
میں ایک دُکان دار ہوں، جب کوئی گاہک کسی چیز کے متعلق معلوم کرتا ہے تو میں گول مول سا جواب دیتا ہوں، مثلاً: ’’پتہ نہیں، آپ چیک کرلیں‘‘ وغیرہ وغیرہ، حالانکہ مجھے اس چیز کے تمام عیب معلوم ہوتے ہیں، اس طرح کاروبار کی کمائی شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
بہتر تو یہ ہے کہ گاہک کو چیز کے عیوب بتادئیے جائیں،(۱) لیکن اگر یہ کہہ دیا جائے کہ: ’’یہ جیسی بھی ہے، آپ کے سامنے ہے، اگر پسند ہے تو لے لیجئے، ورنہ چھوڑ دیجئے‘‘ ایسا کہنے سے بھی آپ کا ذمہ بری ہوجاتا ہے۔(۲)
- (۱) عن حکیم ابن حزام أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: البیعان بالخیار ما لم یتفرقا، فإن بینا وصدقا، بورک لھما فی بیعھما، وإن کذبا وکتما، محق برکۃ بیعھما۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۷۹، نسائی ج:۲ ص: ۲۱۲)۔ وقال فی الدر المختار: (فروع) لَا یحل کتمان العیب فی مبیع أو ثمن لأن الغش حرام إلّا فی المسئلتین، قال الشامی (قولہ لأن الغش حرام) ذکرہ فی الخیر إذا باع سلعتہ علیہ البیان وإن لم یبین قال بعض مشائخنا یفسق وترد شھادتہ۔ (شامی ج:۵ ص:۴۷، باب خیار العیب، أیضًا: بحرالرائق ج:۶ ص:۳۵، باب خیار العیب)۔
- (۲) قال الشامی: قولہ وصح البیع بشرط البرائۃ من کل عیب بأن قال: بعتک ھٰذا العبد علٰی انّی بریء من کل عیب۔ (شامی ج:۵ ص:۴۲، باب خیار العیب، مطلب فی البیع بشرط البرائۃ)۔

