تجارتاورمالیمعاملاتمیںدھوکادہی
قرضکےلئےگرویرکھےہوئےزیوراتکوفروختکرنا
سوال:۔
آج کل غریب علاقوں میں عورتیں اپنے واقف کار لوگوں کے پاس جاکر اپنے زیورات اپنی منہ بولی رقم کے عوض رکھوادیتی ہیں، اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتی ہیں کہ اگر مخصوص مدّت تک رقم واپس نہ دے سکے تو رکھے ہوئے زیورات رکھنے والے کی ملکیت تصوّر ہوں گے۔ اس سلسلے میں آپ مذہبی نقطۂ نگاہ سے فرمائیں کہ کیا یہ کاروبار جائز ہے؟
جواب:۔
اس کو ’’رہن‘‘ یا ’’گروی رکھنا‘‘ کہتے ہیں،(۱) شرعاً اس کی اجازت ہے،(۲) مگر جس کے پاس وہ چیز گروی رکھی جائے وہ اس کا مالک نہیں ہوتا، نہ اس کو اِستعمال کرنے کی اجازت ہے،(۳) بلکہ قرض کی مدّت پوری ہونے پر اس کو مالک سے قرض کا مطالبہ کرنا چاہئے،(۴) اگر قرض وصول نہ ہو تو مالک کی اجازت سے اس چیز کو فروخت کرکے اپنا قرض وصول کرلے اور زائد رقم اس کو واپس کردے۔(۵)
- (۱) الرھن فی اللغۃ: ھو الحبس أی حبس الشیء بأیّ سبب کان مالًا أو غیر مال ۔۔۔ وفی الشرع: عبارۃ عن عقد وثیقۃ بمال ۔۔۔ ویقال ھو فی الشرع جعل الشیء محبوسًا بحق یمکن استیفاؤہ من الرھن کالدیون ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۲۷، کتاب الرھن، طبع حقانیہ ملتان، فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۷۷، کتاب الرھن، طبع سعید کراچی)۔
- (۲)قَالَ تَعَالَى ﵟ وَإِن كُنتُمۡ عَلَىٰ سَفَرٖ وَلَمۡ تَجِدُواْ كَاتِبٗا فَرِهَٰنٌ مَّقۡبُوضَةٌۖ ﵞ البقرة٢٨٣۔ وفی التفسیر المظھری: والأمر لیس للإیجاب إجماعًا بل للإرشاد والشرط خرج مخرج العادۃ علی الأعم والأغلب فلیس مفھوم معتبر عند القائلین بالمفھوم أیضًا حیث یجوز الرھن فی الحضر ومع وجود الکاتب إجماعًا۔ (تفسیر مظہری ج:۲ ص:۴۳۲)۔ وعن عائشۃ قالت: اشتریٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طعامًا من یھودی إلٰی أجل ورھنہ درعا لہ من حدید۔ متفق علیہ۔ (بخاری ج:۱ ص:۳۴۱، مشکوٰۃ ص:۲۵۰)۔ قال وما جاز بیعہ جاز ارتھانہ۔ (النتف الفتاویٰ ص:۳۶۹، عالمگیری ج:۵ ص:۴۳۵)۔ والأصل فی شرعیۃ جواز الرھن قولہ تعالٰی: فرھٰن مقبوضۃ، وروی أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اشتریٰ من یھودی طعامًا ورھنہ بہ درعہ ۔۔۔ ثم ان المشائخ إستخرجوا من ھٰذا الحدیث أحکامًا فقالوا فیہ دلیل جواز الرھن ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۲۸، کتاب الرھن، فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۷۷، کتاب الرھن)۔
- (۳) ولَا ینتفع المرتھن بالرھن إستخدامًا وسکنٰی ولبسًا وإجارۃ وإعارۃ لأن الرھن یقتضی الحبس إلٰی أن یستوفی دینہ دون الْإنتفاع فلا یجوز الْإنتفاع۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۲۷۱، کتاب الرھن، فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۸۲، کتاب الرھن، ھدایۃ ج:۴ ص:۵۲۲، کتاب الرھن)۔
- (۴) أی للمرتھن أن یطالب الراھن بدینہ ویحبسہ بہ وإن کان بعد الرھن فی یدہ لأن حقہ باق ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۲۷۰، کتاب الرھن، طبع بیروت)۔
- (۵) قال فی الکفایۃ: (قولہ والمراد بالشراء فیما رویٰ حالۃ البیع) یعنی إذا باع المرتھن الرھن بإذن الراھن یرد المرتھن ما زاد علی الدین من ثمنہ۔ (الکفایۃ علٰی ھامش فتح القدیر ج:۹ ص:۷۶، کتاب الرھن)۔

