تجارتاورمالیمعاملاتمیںدھوکادہی
موروثیمکانپرقبضےکےلئےبھائیبہنکاجھگڑا
سوال:۔
عرض ہے کہ ہم دو بہن بھائی ہیں (ایک بھائی، ایک بہن)، والدین گزرگئے، ترکہ میں ایک مکان ہے جس میں ہم رہتے تھے۔ میری بہن نے ایک مکان خریدا مجھے اس میں منتقل کردیا، تقریباً ساڑھے چار سال بعد میری بہن نے وہ مکان فروخت کردیا۔ پھر مجھے اس گھر میں (جو کہ ہمارے والدین کا تھا) نہیں آنے دیا، میں کرائے کے مکان میں رہنے لگا۔ تقریباً اَٹھارہ سال ہوئے کرایہ کے مکان میں رہتے ہوئے، میں کرائے کی مد میں تقریباً ۲۰۰،۴۲روپے ادا کرچکا ہوں۔ میں نے برادری میں درخواست دی تو پنچوں نے میری بہن کو بلایا اور میری درخواست بتائی، جس پر میری بہن نے ساڑھے چار سال کا کرایہ ۲۰۰ روپے ماہوار کے حساب سے ۸۰۰،۱۰ روپے ذمہ لگایا۔ اس کے علاوہ میری بہن نے میری طرف ۰۰۰،۲۱روپے کا قرضہ بتایا، اور کلمہ پڑھ کر کہا کہ یہ میرے ہیں۔ اس کے علاوہ (والدین کے مکان میں جو ترکہ میں ہے) بجلی لگوائی: ۴۰۰ روپے، پانی کا نل لگوایا: ۳۰۰ روپے، گیس لگوایا: ۵۰۰ روپے، مرمت مکان: ۰۰۰،۵روپے، اس طرح جنرل ٹوٹل: ۰۰۰،۱۷روپے ہوئے۔ پنچوں نے پھر میرا حساب کیا کہ ترکہ کے مکان میں ۱۹۵۹ء سے رہتی ہو، اور یہ مکان میری بہن سے (جس میں، میں ساڑھے چار سال رہا) بڑا ہے، لہٰذا اس کا کرایہ کم از کم ۲۰۰ روپے ماہوار لگاؤ، تقریباً ۲۸ سال ہوئے جس کا کرایہ: ۲۰۰؍۶۷ روپے ہوا، اور ۶۰۰،۱روپے نقد کے ہیں، کل رقم: ۸۰۰،۶۸روپے ہوئے۔ لہٰذا شریعت کی رُو سے بتائیں یہ رقم بہن بھائی میں کس طرح تقسیم کی جائے اور مکان کس طرح تقسیم کیا جائے؟ مہربانی فرماکر بہن کا علیحدہ اور بھائی کا علیحدہ حصہ بتایا جائے تاکہ یہ معاملہ نمٹ سکے۔
جواب:۔
والدین نے جو مکان چھوڑا ہے، اس پر دو حصے بھائی کے ہیں، اور ایک حصہ بہن کا، لہٰذا اس کے تین حصے کرکے، دو بھائی کو دِلائے جائیں اور ایک بہن کو۔(۱)
۲:۔ بہن جو قرضہ بھائی کے نام بتاتی ہے، اگر اس کے گواہ موجود ہیں یا بھائی اس قرض کا اقرار کرتا ہے، تو بھائی سے وہ قرضہ دِلایا جائے، ورنہ بہن کا دعویٰ غلط ہے، وہ کتنی ہی دفعہ کلمہ پڑھ کر یقین دِلائے۔(۲)
۳:۔ بہن نے اپنے بھائی کو جس مکان میں ٹھہرایا تھا اگر اس کا کرایہ طے کرلیا تھا تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ شرعاً کرایہ وصول کرنے کی مجاز نہیں۔(۳)
۴:۔ بھائی کے مکان میں جو وہ ۲۸ سال تک رہی ، چونکہ یہ قبضہ غاصبانہ تھا، اس لئے اس کا کرایہ اس کے ذمہ لازم ہے۔(۴)
۵:۔ بہن نے اس مکان میں جو بجلی، پانی اور گیس پر روپیہ خرچ کیا، یا مکان کی مرمت پر خرچ کیا، چونکہ اس نے بھائی کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے کیا، اس لئے وہ بھائی سے وصول کرنے کی شرعاً مجاز نہیں۔(۵)
خلاصہ یہ کہ بہن کے ذمہ بھائی کے ۶۷۲۰۰ روپے بنتے ہیں، اور شرعی مسئلے کی رُو سے بھائی کے ذمہ بہن کا ایک پیسہ بھی نہیں نکلتا۔ تاہم پنچایت والے صلح کرانے کے لئے کچھ بھائی کے ذمہ بھی ڈالنا چاہیں تو ان کی خوشی ہے۔
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوْلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ﵞ النساء١١وأما الأخوات لأب واُمّ فأحوال خمس ۔۔۔ ومع الأخ لأب واُمّ للذکر مثل حظ الأنثیین یصرن بہ عصبۃ لِاستوائھم فی القرابۃ إلی المیّت۔ (سراجی ج:۱۰)۔
- (۲) أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال فی خطبتہ: البیّنۃ علی المدعی والیمین علی المدعٰی علیہ۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲۴۹)۔ وفی الھدایۃ: وإذا صحت الدعویٰ سال القاضی المدعٰی علیہ عنھا لیکشف وجہ الحکم فإن اعترف قضی علیہ بھا لأن الْإقرار موجب بنفسہ فیأمرہ بالخروج عنہ وإن أنکر سال القاضی المدعی البیّنۃ لقولہ علیہ السلام الک بینۃ فقال لَا فقال لک یمینہ، سال ورتب الیمین علی فقد البینۃ فلابد من السؤال لیمکنہ الْإستخلاف۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۰۲)۔
- (۳) واعلم ان صحۃ الْإجارۃ متعلقۃ بشیئین، إعلام الأجر وإعلام العمل، فإذا کان أحدھما مجھولًا فالْإجارۃ فاسدۃ لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: من استأجر أجیرًا فلیعلمہ أجرہ۔ (کما فی النتف الفتاویٰ ص: ۳۳۸)۔ فیجب الأجر لدار قبضت ولم تسکن لوجود تمکنہ من الْإنتفاع وھٰذا إذا کانت الْإجارۃ صحیحۃ، أما فی الفاسدۃ فلا یجب الأجر، (إلّا بحقیقۃ الْإنتفاع)۔ (قولہ بحقیقۃ إلخ) أی إذا وجد التسلیم إلی المستأجر من جھۃ الآجر، أما إذا لم یوجد من جھتہٖ فلا أجر وإن استوفی المنفعۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۱۱، کتاب الْإجارۃ)۔
- (۴) وان حدثت ھٰذہ الأشیاء بفعل الغاصب وسکناہ فالضمان علیہ بالْإجماع فی الزاد ۔۔۔ وما نقص من سکناہ وزراعتہ ضمن النقصان کما فی النقلی وھٰذا بالْإجماع۔ (ھندیۃ ج:۵ ص:۱۲۰، کتاب الغصب، الباب الأوّل فی تفسیر الغصب)۔ غصب من آخر سفینۃ فلما رکبھا وبلغ وسط البحر فلحقہ صاحبھا لیس لہ أن یستردّھا من الغاصب ولٰـکن یؤاجر من ذٰلک الموضع إلی الشط مراعاۃ للجانبین۔ (ھندیۃ ج:۵ ص:۱۳۶، کتاب الغصب، الباب السادس فی إسترداد ۔۔۔إلخ)۔
- (۵) ومن بنٰی أو غرس فی أرض غیرہ بغیر إذنہ أمر بالقلع والرد۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۱۹۴، کتاب الغصب)۔

