تجارتاورمالیمعاملاتمیںدھوکادہی
ڈیوٹیدئیےبغیرگورنمنٹسےلیہوئیرقمکاکیاکریں؟
سوال:۔
میری شادی کو دو سال ہونے والے ہیں، شادی کے وقت میں ٹھٹھہ شہر میں تھی جو کراچی سے ۸۰ میل دُور ہے، میرے شوہر سرکاری ملازم ہیں، لیکن وہ اوتھل میں ڈیوٹی دیتے تھے اور ساتھ ہی کراچی میں (جہاں ہم رہتے تھے) اسپتال میں کورس کرتے رہے اور وہاں سے بھی ان کو اسکالر شپ کے پیسے ملتے تھے۔ شاید ۸، ۹ مہینے وہ اس اسپتال میں ہاؤس جاب کرتے رہے اور ایک دن بھی اوتھل میں ڈیوٹی نہیں دی اور وہاں کی ڈیوٹی کی پوری تنخواہ چار ہزار وہ لیتے رہے، اور مہینے کے آخر تک وہ پیسے ختم ہوجاتے اور بچتے نہیں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کا فرض ہے کہ جہاں وہ سرکاری ملازموں کو ڈیوٹی کے لئے بھیجے تو اس جگہ اچھی رہائش اور باقی سہولتوں کا بھی بندوبست کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں سہولتیں نہیں تھیں اور ان کے بڑے افسر کو پتا تھا۔ اور ایک دفعہ جب وہ اوتھل گئے دُوسرے شہر میں ٹرانسفر کے کام کے لئے، اس وقت دُوسرا افسر آچکا تھا، وہ بہت ناراض ہوا۔ اب ایک سال سے ان کی ٹرانسفر کوئٹہ شہر میں ہے، وہاں یہ کام کرتے ہیں۔ لیکن میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ۶۰ہزار ان مہینوں کی تنخواہ بنتی ہے اوتھل کی ڈیوٹی کی، تو اسلام کی رُو سے یہ ناجائز رقم ہے، ہمارے پاس اس میں سے کچھ بھی نہیں بچی تھی۔ میرے شوہر اس میں سے ۸ہزار بغیر نیت کے غریبوں کو دے چکے ہیں اور باقی رقم وہ کہتے ہیں کہ آہستہ آہستہ نکالیں گے، جیسے جیسے پیسہ آئے گا۔ تو کیا اس طریقے سے ہماری نماز روزہ قبول نہ ہوگا؟ یا جب تک ہم پوری ناجائز رقم نہ نکال دیں نماز روزہ قبول نہ ہوگا؟ کیا اگر میں اپنے حصے کی رقم نکال دُوں یعنی جب سے شادی کرکے ان کے پاس آکر میں نے اس تنخواہ کا کھانا کھایا، ان کے حساب سے وہ ۲۴ ہزار بنتے ہیں، تو کیا میرا نماز روزہ قبول ہونا شروع ہوجائے گا؟ اس طرح ان کی بھی مدد ہوجائے گی، اگر میں اپنی ملکیت سے یہ ناجائز رقم نکال دُوں گی۔ کیا اس تمام رقم پر زکوٰۃ بھی ادا کرنی ہوگی؟ جبکہ یہ تنخواہ تو بچتی نہ تھی اور استعمال ہوجاتی تھی مہینے کے اندر اندر۔
جواب:۔
یہ ناجائز رقم تھی،(۱) آہستہ آہستہ اس کو نکال دیں۔(۲)
- (۱) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اُجرتہ بقدر ما عمل، قال ابن عابدین: (قولہ ولیس للخاص) وفی الفتاوی الفضلی وإذا استأجر رجلًا یومًا یعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذٰلک إلٰی تمام المدۃ ولَا یشغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔ ثم قال: واتفقوا أنہ لَا یؤدیٰ نفلًا وعلیہ الفتویٰ۔ ثم قال نجارًا استوجر إلی اللیل فعمل الآخر دواۃ بدرھم وھو یعلم فھو آثم وإن لم یعمل فلا شیء علیہ وینقص من أجر النجار بقدر ما عمل فی الدواۃ۔ (شامی ج:۶ ص:۷۰، باب ضمان الأجیر)۔
- (۲) قال ابن عابدین: والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (شامی ج:۵ ص:۹۹، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔

