بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تجارت‌اور‌مالی‌معاملات‌میں‌دھوکادہی

چھوٹے‌بھائی‌کے‌ساتھ‌دھوکا‌کرنے‌والے‌کا‌انجام

سوال:۔

ایک شخص جو نماز، روزہ اور تلاوتِ قرآن کا پابند ہے، پڑھا لکھا دِینی و دُنیاوی علوم سے اچھی طرح باخبر ’’الحاج‘‘ شخص ہے، اس نے جو مال بھی کمایا ہے وہ چھوٹے سگے بھائی کے توسط سے کمایا، جس نے اسے سعودی عرب کا ریلیز ویزا اور وہاں کی ملازمت حاصل کرنے میں اس کی معاونت کی۔ چونکہ چھوٹا بھائی ایک طویل عرصے سے ایک مشہور کمپنی میں مارکیٹنگ منیجر کی پوسٹ پر ہے، بڑا بھائی ۶، ۷ سال ملازمت کرنے اور بھاری رقم بچت کرنے کے بعد مدّتِ ملازمت کے خاتمے پر وطن لوٹ آیا اور یہاں آتے ہی اس شخص میں دولت کی حرص و ہوس بڑھتی گئی اور اس نے اپنے محسن یعنی چھوٹے بھائی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے کسی ذاتی کام کی ذمہ داری پردیس سے اس پر سونپی اور اس کام کے لئے تقریباً تین لاکھ روپے کا ڈرافٹ اپنے بڑے بھائی کے نام اِرسال کیا۔ اس کے علاوہ سعودیہ بلانے سے قبل اس پر اعتماد کرتے ہوئے ۱۲۰ گز کا پلاٹ اس کے نام پر رکھوالے کی حیثیت سے خریدا۔ عرض یہ کرنا ہے کہ تقریباً چار سال ہوئے یہ بددیانت شخص اپنے چھوٹے بھائی کی تین لاکھ سے زائد کیش رقم اور ایک لاکھ روپے مالیت کے پلاٹ کا مالک بن بیٹھا ہے، جس کا کوئی تحریری ثبوت بھی موجود نہیں۔ مزید برآں یہ کہ وہ اپنے بھائی کے مکان میں جبراً رہ بھی رہا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ وہ خود کو ’’صوفی‘‘ کہلواتا ہے، بڑا پرہیزگار اور دِین دار بنا پھرتا ہے۔ چھوٹے بھائی نے ہر طرح سے کوشش کی کہ اس کی نجی رقم وہ واپس کردے، اس کے لئے ہر معزّز طریقہ اختیار کیا، مگر ہر بار وہ ڈاج دے کر بچتا رہا ہے۔ اصل مالک چونکہ پردیس میں رہتا ہے، اس لئے مستقل مزاجی سے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

مولانا صاحب! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اور حجۃ الوداع میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی بڑی تفصیل بیان کی ہے کہ: ’’کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ اپنے بھائی کا مال غلط طریقے سے کھائے، بجز اس کے کہ اس میں اس کی رضامندی شامل ہو۔‘‘ مولانا صاحب! اصل مالک کو اس بددیانت شخص سے روپیہ حاصل کرنے کے لئے کون سا ہتھکنڈا اختیار کرنا چاہئے؟ اس کے ساتھ عدالتی کارروائی کرنی چاہئے یا خدا کی عدالت میں اس مقدمے کو پیش کردینا چاہئے؟ کیا خداوند تعالیٰ اس خائن شخص کی نیکیاں اور عبادتیں چھوٹے بھائی کے کھاتے میں ڈال دے گا، جس کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے؟ خدا کے حضور میں اس شخص کا کیا انجام ہوگا؟

جواب:۔

آپ نے جو کچھ لکھا ہے، اگر وہ صحیح ہے تو ظاہر ہے کہ کسی کا مال کھانے والا نیک، پرہیزگار، متقی اور صوفی نہیں ہوسکتا، خائن، بددیانت اور غاصب کہلانے کا مستحق ہوگا۔

رہا یہ کہ ایسے شخص کے ساتھ کیسے نمٹا جائے؟ تو دُنیا میں تو اس کے دو طریقے رائج ہیں، ایک یہ کہ دو چار شریف آدمیوں کو جمع کرکے ان کے سامنے واقعات بیان کئے جائیں اور وہ ان صاحب کو سمجھائیں۔ دُوسرا طریقہ یہ ہے کہ عدالت سے رُجوع کیا جائے۔

جہاں تک آخرت کا تعلق ہے، وہاں کسی شخص کے لئے دھوکادہی، فریب اور غلط تأویل کی گنجائش نہیں، ہر انسان کی کارکردگی کا پورا دفتر، نامۂ عمل کی شکل میں موجود ہوگا، اور ہر ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائے گا، اور وہاں بدلہ چکانے کے لئے ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دِلائی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوم کے گناہوں کا بوجھ ظالم پر ڈال دیا جائے گا۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جانتے ہو مفلس کون ہے؟ عرض کیا گیا: ہمارے یہاں تو مفلس وہ کہلاتا ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ اور مال و متاع نہ ہو۔ فرمایا: ’’میری اُمت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے، لیکن (اس کے ذمہ لوگوں کے حقوق بھی ہوں، مثلاً:) ایک شخص کو گالی دی تھی، ایک پر تہمت لگائی تھی، ایک کا مال کھایا تھا، ایک کا خون بہایا تھا، ایک کو مارا پیٹا تھا، اس کی نیکیاں ان تمام اَربابِ حقوق کو دے دی جائیں گی، اور اگر حقوق ابھی باقی تھے کہ نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دئیے گئے پھر اس کو جہنم میں جھونک دیا گیا۔

’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هٰذَا، وَقَذَفَ هٰذَا، وَأَكَلَ مَالَ هٰذَا، وَسَفَك دَمَ هٰذَا، وَضَرَبَ هٰذَا، فَيُعْطَى هٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ۔

رَوَاهُ مُسْلِم۔‘‘(رواہ مسلم ج:۲ ص:۳۲۰، مشکوٰۃ ص:۴۳۵)

اور صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر کسی کے ذمہ اس کے بھائی کا کوئی حق ہو خواہ اس کی جان سے متعلق یا عزّت سے متعلق یا مال سے متعلق، اس کو چاہئے کہ یہیں معاملہ صاف کرکے جائے، اس سے پہلے کہ آخرت میں پہنچے جہاں اس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہیں ہوگا۔ اگر اس کے پاس نیکیاں ہوں گی تو لوگوں کے حقوق کے بقدر اَربابِ حقوق کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈال دئیے جائیں گے‘‘ (مشکوٰۃ، باب الظلم ص:۴۳۵)۔

’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ۔ ‘‘ (رواہ البخاری ج:۱ الجزء التاسع ص:۳۳۱)

اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائیں، آخرت کا معاملہ بڑا ہی سنگین ہے، جو شخص آخرت پر اِیمان رکھتا ہو، اس کے لئے کسی پر ظلم و تعدی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، اور جو شخص کسی کو ستاتا ہے، کسی کی غیبت کرتا ہے، کسی کو ذہنی و جسمانی ایذا پہنچاتا ہے، کسی کا مال کھاتا ہے، قیامت کے دن یہ سب کچھ اُگلنا پڑے گا، ذِلت و رُسوائی الگ ہوگی، اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب الگ ہوگا، اور جہنم کی سزا الگ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنی پناہ میں رکھے۔