غیرمسلموںسےکاروبارکرنا
کفارسےلیندینجائزہے،لیکنمرتدسےنہیں
سوال:۔
تجارتی لوگوں کا تمام مذاہب سے واسطہ پڑتا ہے، کیا غیرمذاہب کے لوگوں سے دُعائیں کروانا، سلام کرنا یا جواب دینا جائز ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
کسی مرتد سے لین دین کی تو شرعاً اجازت ہی نہیں، باقی غیرمذاہب سے لین دین اور معاملہ جائز ہے،(۱) مگر ان سے دُعائیں کروانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،(۲) اور نہ کوئی مسلمان اس کا تصوّر کرسکتا ہے۔ سلام ان کو اِبتداء تو نہ کیا جائے،(۳) البتہ ان کے سلام کے جواب میں صرف ’’وعلیکم‘‘ کہہ دیا جائے۔(۴)
- (۱) وأما الکافر فتجوز معاملتہ لٰـکن لَا یباع منہ المصحف ولَا العبد المسلم ولَا یباع منہ السلاح إن کان من أھل الحرب۔ (إحیاء العلوم ج:۲ ص:۶۵ البیع وأرکانہ وشروطہ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۲) قَالَ تَعَالَىﵟ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ﵞ غافر ٥٠
- (۳) عن سھل ابن ابی صالح قال: خرجت مع أبی الشام فجعلوا یمرون بصوامع فیھا نصاریٰ فیسلمون علیھم فقال أبی: لَا تبدؤھم بالسلام وإذا لقیتموھم فی الطریق فاضطروھم إلٰی أضیق الطریق۔ (رواہ أبوداوٗد ج:۲ ص:۳۶۰)۔ فلا یسلم إبتدائً علٰی کافر لحدیث لَا تبدؤا الیھود والنصاریٰ أی بالسلام ۔۔۔إلخ۔ (در مختار ج:۶ ص:۴۱۳، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
- (۴) حدثنا أنس بن مالک قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا سلم علیکم أھل الکتاب فقولوا: وعلیکم۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۲۵، ومسلم ج:۲ ص:۲۱۳)۔ أیضًا: وفی الدر المختار ولو سلم یھودی أو نصرانی أو مجوسی علٰی مسلم فلا بأس بالرد ولٰـکن لَا یزید علٰی قولہ وعلیک۔ (درمختار ج:۶ ص:۴۱۳ کتاب الحظر والْإباحۃ)۔

