غیرمسلموںسےکاروبارکرنا
غیرمسلموںسےخریدوفروختاورقرضلینا
سوال:۔
کیا غیرمسلم لوگوں سے کھانے پینے کی چیزیں یا دیگر قرض وغیرہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
غیرمسلموں کے ساتھ لین دین کا معاملہ کرنا جائز ہے،(۱) بشرطیکہ وہ غیرمسلم مرتد نہ ہو۔(۲)
- (۱) عن عبدالرحمٰن بن أبی بکر قال: کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم جاء رجل مشرک مشعان (طویل شعث الرأس) طویل یغنم یسوقھا قال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: بیعًا أو عطیۃ أو قال أم ھبۃ قال: لَا، بل بیع، فاشتریٰ منہ شاۃ۔ (صحیح البخاری، باب الشراء والبیع مع المشرکین وأھل الحرب ج:۱ ص:۲۹۵ طبع نور محمد)۔ ولَا بأس بأن یکون بین المسلمن والذمی معاملۃ إذا کان مما لَا بد منہ۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الکراھیۃ ج:۵ ص:۳۵۹)۔ وکذا إسلام البائع لیس بشرط لِانعقاد البیع ولَا لنفاذہ ولَا لصحتہ بالْإجماع۔ (بدائع الصنائع، کتاب البیوع ج:۵ ص:۱۳۵، طبع سعید)۔
- (۲) المرتد إذا باع أو اشتری یتوقف ذالک إن قتل علٰی ردّتہ أو مات أو لحق بدار الحرب بطل تصرفہ وإن أسلم نفذ بیعہ۔ (عالمگیری ج:۳ ص:۱۵۴، کتاب البیوع، الفصل العاشر فی بیع شیئین، الباب الثانی عشر فی أحکام البیع الموقوف)۔

