خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کیاکلرککےذمےصرفاپنےافسرکاکامہے؟
سوال:۔
جیسا کہ عام طور پر گورنمنٹ آفس میں ہوتا ہے کہ ملازم دیر سے آتا ہے اور جلدی چلا جاتا ہے، اس پر آپ نے لکھ دیا ہے۔ مگر ایک آدمی کہ جو وقت پر جاتا ہے اور وقت پر آفس آتا ہے، بعض اوقات چھٹی کے بعد بھی گھنٹہ آدھ گھنٹہ بیٹھ جاتا ہے، جبکہ کام وہ کچھ بھی نہیں کرتا، کیونکہ وہ ایک آفیسر کا معاون کلرک ہے، اور اگر کوئی دُوسرے شعبے کا آدمی اس سے کسی کام کا کہتا ہے تو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ اپنے شعبے کے ٹائپسٹ سے کراؤ، جبکہ وہ فارغ ہوتا ہے، ہاں جب اس کا آفیسر کہ جس (کے وہ ماتحت) ہے، کام دیتا ہے تو نہایت محنت اور تندہی سے کرتا ہے، بس خالی اوقات میں وہ دُوسروں کا کام نہیں کرتا۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ہر شعبے کا ایک علیحدہ اپنا ٹائپسٹ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں مجھے یہ بتائیے کہ آیا یہ بات کس زُمرے میں آتی ہے؟ اگر وہ دُوسری برانچ (شعبے) کا کام نہیں کرتا اور سارا دِن فارغ بیٹھا رہتا ہے تو یہ تنخواہ جو وہ لے رہا ہے، اس کے لئے جائز ہے یا ناجائز؟
جواب:۔
اس کے ذمے قانوناً صرف اپنے افسر کے کام کو پورا کرنا ہے، دُوسرے شعبوں کے کام اس کے ذمے نہیں۔ اس لئے اگر وہ سارا دِن بیٹھا رہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے۔ البتہ اس کے افسر کو چاہئے کہ اگر گنجائش ہو تو دُوسرے شعبوں کے کام اس کے حوالے کردیا کرے۔(۱)
- (۱) والأجیر الخاص ھو الذی یستحق الأجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدۃ وإن لم یعمل کمن استأجر رجلا شھرًا للخدمۃ أو لرعی الغنم وانما سمی خاصا لأنہ یختص بعملہ دون غیرہ لأنہ لَا یصح أن یعمل لغیرہ فی المدۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۶۹، کتاب الْإجارۃ، طبع دھلی، أیضًا: جامع الرموز ج:۳ ص:۱۴۳ کتاب الْإجارۃ، طبع إیران)۔

