خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کاروبارکےلئےلیہوئیپوریرقماوراُسکامنافعادانہکرنازیادتیہے
سوال:۔
ایک شخص کو جو میرا عرصہ بیس سال سے دوست تھا، میں نے اُسے کاروبار کے لئے ایک لاکھ کی رقم دی، مجھ سے وعدہ یہ کیا گیا تھا کہ اس رقم سے کاروبار کروں گا اور منافع دُوں گا۔ اس نے کاروبار کیا، کاروبار خوب چلا، مکان نہیں تھا، پلاٹ خرید کر اچھا مکان بنایا، سامانِ تعیش خریدا، اور کاروبار بھی خوب چل رہا ہے۔ مجھے رقم لینے کے ایک سال بعد کبھی ۳۰۰، کبھی ۵۰۰، کبھی ۱۰۰۰ اور کبھی ۲۰۰۰روپے دیتا رہا، لیکن میرے بار بار اِصرار کے باوجود مجھے نہ ہی منافع بتایا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی، مجھے شک ہوا تو میں نے ایسے چھوٹی چھوٹی رقم لینے سے اِنکار کردیا، میں نے اس سے کہا کہ مجھے میری اصل رقم واپس کرو اور جو منافع بنتا ہے، مجھے دو۔ وہ مختلف طریقوں سے ٹرخاتا رہا، پھر میں نے ذرا سختی سے رقم واپس لینے کا مطالبہ کیا تو مجھے ۶۰ہزار روپے دے کر ایک رقعہ مجھے دیا جس میں لکھا تھا کہ آپ کی تمام رقم واپس ہوگئی ہے اور منافع بھی دے دُوں گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا حوالہ دیا ’’سود کے ۳درجے ہیں اور کم تر درجہ یہ ہے کہ کوئی اپنی ماں سے ۳۶مرتبہ بدکاری کرے‘‘ اس شخص نے داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے اور حج بھی کیا ہوا ہے، اور کئی دفعہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا تذکرہ بھی کرتا رہتا ہے۔ کیا مجھ سے رقم لیتے وقت وعدے کے مطابق (تحریر بھی موجود ہے) میں منافع کا حق دار ہوں یا سود کا؟ منافع دینے کی بجائے سود ظاہر کرکے میری حق تلفی کرنا چاہتا ہے۔ چار سال تک مجھے منافع دینے کا کہتا رہا، اور جب منافع دینے کا وقت آیا تو اسے سود کہہ رہا ہے، اور میری اصل رقم بھی برباد کردی۔
جواب:۔
اس نے داڑھی رکھی ہے، اور حج کیا ہے، یہ تو بہت اچھا کیا، لیکن اس نے جو معاملے میں بدعہدی کی، یہ بہت بُرا کیا، مسلمان کو بدعہدی نہیں کرنی چاہئے۔ اس شخص کا فرض ہے کہ آپ کے ایک لاکھ روپے سے جو اس نے کاروبار کیا اس کا ایک ایک پیسے کا حساب دے، اور اس کاروبار سے جو کمایا اس کا نصف آپ کو دے، اور رقم بھی واپس کرے۔ آپ نے یہ رقم سود کھانے کے لئے نہیں دی تھی، بلکہ کاروبار کرنے کے لئے دی تھی، اب ان صاحب کا آپ کو سود کی حدیث سنانا صریح زیادتی ہے۔ بہرحال کاروبار سے جو منافع اس کو حاصل ہوا، اس کا حصہ آپ کو دینا چاہئے۔(۱)
- (۱) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ ﵞ النساء٢٩۔ وفی معالم التنزیل للبغوی: (بالباطل) بالحرام یعنی بالربا، والقمار، والغصب، والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (ج:۲ ص:۵۰، طبع قدیمی کراچی)۔

