خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کاغذوںمیںتنخواہکملکھوانےوالےاِماماورکمیٹیدونوںگناہگارہوںگے
سوال:۔
اگر کوئی اِمام صاحب تنخواہ زیادہ لیتے ہوں اور مسجد کمیٹی سے کہیں کہ میری تنخواہ کاغذوں میں کم لکھ دی جائے تاکہ حکومت سے مزید رقم وغیرہ حاصل کرسکوں، تو اس صورت میں اِمام صاحب گناہگار ہوں گے یا صرف کمیٹی والے؟
جواب:۔
اِمام صاحب اور کمیٹی والے دونوں گناہگار ہوں گے، کیونکہ دونوں نے غلط بیانی سے کام لیا۔(۱)
- (۱) آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف ۔۔۔إلخ۔ (سنن النسائی ج:۲ ص:۲۳۲)۔ وما کان سببًا لمحظور فھو محظور۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۵۰ کتاب الحظر والْإباحۃ)۔ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢۔ وفی التفسیر المظھری تحت ھٰذہ الآیۃ: یعنی لَا تعاونوا علٰی إرتکاب المنھیات وعلی الظلم۔ (تفسیر مظھری ج:۳ ص:۱۹)۔ قال النووی: فیہ تصریح بتحریم کتابۃ المترابیین والشھادۃ علیھما، وبتحریم الْإعانۃ علی الباطل۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۶ ص:۵۱، کتاب البیوع، باب الربا، الفصل الأوّل، طبع رشیدیہ)۔

