بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

پاکستانی‌مال‌پر‌باہر‌کا‌مارکہ‌لگاکر‌بیچنے‌کا‌گناہ‌کس‌کس‌پر‌ہوگا؟

سوال:۔

ہم تجارت پیشہ افراد ہیں، بنیادی طور پر ہماری تجارت پرچون کی دُکان داری ہے، لیکن کچھ اشیاء ہمارے پاس تھوک بھی موجود ہیں۔ پرچون اشیاء ہم دُکان پر رَبِّ کریم کی مہربانی اور دی ہوئی توفیق سے بالکل سچائی اور اسلامی طریقے کے مطابق خوبیاں اور خامیاں بتلاکر فروخت کر رہے ہیں، لیکن تھوک اشیاء جو کہ کٹلری کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں اور وزیرآباد شہر سے تیار ہوکر ہمارے ذریعے پرچون فروش دُکان دار کو مل سکتی ہیں (اور ہماری مرضی کے خلاف ان اشیاء پر غیرملکی مارک لگائے جاتے ہیں)، ہم سے مال خرید کرنے والے ۵۰ فیصد پرچون فروش اس مال کو غیرملکی بتلاکر اپنا ملکی تیار کردہ مال فروخت کرتے ہیں، اور ۵۰ فیصد پرچون فروش خریدار کو حقیقتِ حال بتلاکر فروخت کرتے ہیں۔ آیا جو پرچون فروش مال کو حقائق چھپاکر فروخت کرتے ہیں، ان کی غلط بیانی کا وبال کس کے کھاتے میں جاتا ہے، مال تیار کرنے والے پر جس نے ملکی مال پر غیرملکی مارک لگایا؟ آیا ہم پر کہ مال ہمارے ذریعے پرچون فروش کو فروخت ہو رہا ہے (حالانکہ ہم مال فروخت کرتے ہوئے بالکل اس بات کی پرچون فروش کو ترغیب نہیں دیتے کہ وہ اس مال کو غیرملکی کہہ کر فروخت کرے)، اور جیسا کہ اُوپر ذکر ہوچکا ہے کہ نہ ہی مارک لگانے کے لئے تیار کنندہ کو کوئی ترغیب ہماری جانب سے دی جاتی ہے، ہمیں جیسا مال وزیرآباد میں ملتا ہے ویسا ہی سپلائر سپلائی کردیتا ہے۔

سوال:۔

آیا اس پرچون فروش پر وبال ہوتا ہے جو کہ اصل حقیقی گاہک (چیز استعمال کرنے والے) پر آخر میں مال فروخت کر رہا ہے؟

جواب:۔

یہ جعل سازی اور دھوکادہی ہے۔ غیرملکی مارک لگانے والے بھی گنہگار ہیں اور جو لوگ حقیقتِ حال سے واقف ہونے کے باوجود اس کو غیرملکی کہہ کر فروخت کرتے ہیں وہ بھی گنہگار ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جو ہمیں (یعنی مسلمانوں کی جماعت کو) دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(۱)

جواب:۔

جہاں تک یہ خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہے گا اور لوگ اس کو جانتے ہوئے ’’اصلی‘‘ کہہ کر بیچتے رہیں گے، سب گنہگار ہوں گے۔(۲)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ ﵞ النساء ٢٩۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ علٰی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت أصابعہ بللًا فقال: یا صاحب الطعام! ما ھٰذا؟ قال: أصابتہ السماء یا رسول اللہ! قال: أفلا جعلتہ فوق الطعام حتّٰی یراہ الناس، ثم قال: من غش فلیس منا۔ (رواہ الترمذی ج:۱ ص:۱۵۷، أبواب البیوع، باب ما جاء فی کراھیۃ الغش فی البیوع)۔ قال فی الدر المختار (مرفوع) لَا یحل کتمان العیب فی مبیع أو ثمن لأن الغش حرام إلّا فی مسئلتین۔ قال الشامی: (قولہ لأن الغش حرام) ذکر فی الخیر إذا باع سلعتہ علیہ البیان وإن لم یبن قال بعض مشائخنا یفسق وترد شھادتہ۔ قال الصدر لَا نأخذ قال فی النھر أی لَا نأخذ بکونہ یفسق بمجرد ھٰذا لأنہ صغیرۃ اھـ قلت وفیہ نظر لأن الغش من أکل أموال الناس بالباطل فکیف یکون صغیرۃ بل الظاھر فی تعلیل الکلام الصدر إن فعل ذٰلک مرۃ بلا إعلان لَا یصیر بہ مردود الشھادۃ وإن کان کبیرۃ کما فی شرب المسکر ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۴۷، باب خیار العیب، والبحر الرائق ج:۶ ص:۳۵)۔
  2. (۲) عن أبی الحمراء قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ بجنبات رجل عندہ طعام فی وعاء فأدخل یدہ فیہ فقال: لعلک غششت، من غشنا فلیس منّا۔ (ابن ماجۃ ص:۱۶۱، باب النھی عن الغش)۔