خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
ایسیجگہنوکریکرناجہاںجھوٹبولناپڑتاہو
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ میں کپڑا بنانے والوں یعنی نٹنگ فیکٹری میں ملازمت کرتا ہوں، فیکٹری کی مشینوں پر گاہکوں کے مال بھی بنائے جاتے ہیں، مختلف پارٹیاں مال بنانے کے لئے دیتی ہیں، اکثر پارٹیاں کپڑا دو دھاگے مکس کرکے یعنی ربڑ دھاگہ اور کاٹن دھاگہ بنانے کے لئے دیتی ہیں، ربڑ دھاگے کی قیمت فی کلو بارہ سو روپے ہے، اور کاٹن دھاگے کی قیمت ۷۰روپے فی کلو ہے۔ اگر کپڑا بنانے میں ربڑ دھاگہ کاٹن کے ساتھ ڈھائی فیصد اِستعمال ہوتا ہے تو ہمارے منیجر صاحب ان کو ساڑھے تین فیصد چارج کرتے ہیں، اور پارٹی کو جھوٹ بولتے ہیں کہ ساڑھے تین فیصد ربڑ دھاگہ اِستعمال ہوا ہے، اور ایک فیصد ان کا حق رکھ لیتے ہیں، جو بالکل ناجائز ہے۔ میں نے منیجر کو کہا کہ یہ ناجائز ہے، اس طرح نہ کیا جائے۔ لیکن میری بات نہیں مانتے، بس ملازموں پر حکم چلاتے ہیں کہ یہ کرو، یہ نہ کرو۔ ان کے کہنے پر مجھ کو بھی جھوٹ بولنا پڑتا ہے، جبکہ میں نہیں چاہتا، ورنہ نوکری جانے کا ڈَر ہے۔ مجھے کہا کہ ہم جو کہتے ہیں اگر ناجائز ہے تو ہماری پکڑ ہوگی، بس تم بری الذمہ ہو۔ جھوٹی تسلی دیتے ہیں، کیا میرے لئے یہ نوکری جائز ہے یا ناجائز؟ جبکہ مجھے تو آج کے زمانے میں محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاید ہی کہیں ۱۰۰فیصد حلال کمایا جاتا ہو، کوئی نہ کوئی حرام فعل کاروبار میں ضرور ہوتا ہے۔ اگر میں نوکری چھوڑتا ہوں تو گھر والے مجھے کیا کچھ نہیں بولیں گے، بڑی مشکل سے اچھی نوکری ملی اور چھوڑ دی، جبکہ ہمارے گھر کے حالات بھی ناسازگار ہیں۔ میں الحمدللہ! نماز کا پابند ہوں، شریعت پر پابند رہنے کی کوشش کرتا ہوں، تعلیم، درس وتدریس وغیرہ میں تقریباً روزانہ جاتا ہوں، لیکن میرے گھر والوں کا یہ حال نہیں ہے، یہ اگر میں اِیمان کی قوّت پر اس نوکری کو چھوڑ دُوں اللہ پر توکل کرتے ہوئے تو اپنے گھر والوں کو کیسے سمجھاؤں؟ خاص دِین دارہوتے تو فوراً محسوس کرلیتے، یہ تو اُلٹا کیا کیا کہیں گے، کوئی ملازمت بھی فوراً نہیں ملتی، کیا کریں؟
جواب:۔
اپنے سیٹھ سے کہہ دیں کہ وہ آپ سے جھوٹ نہ بلوایا کریں، بہتر تو یہ ہے کہ وہ خود بھی پرہیز کریں، اللہ تعالیٰ ان کی روزی میں برکت دے گا، حرام کمائی زیادہ تو ہوتی ہے، لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی۔ بہرحال اگر سیٹھ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے تو کم سے کم اتنا کرلیں کہ آپ خود جھوٹ نہ بولیں، ان کے جھوٹ بولنے کا وبال ان کے ذمے۔

