بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

جھوٹ‌بول‌کر‌مال‌بیچنا

سوال:۔

میں ایک دُکان دار ہوں، ہمارے آس پاس بہت سی دُکانیں اور بھی ہیں، کئی دُکان والوں کے پاس پاکستانی چیزیں ہیں، مگر اکثر دُکان والے پاکستانی چیز کو جاپانی نام پر بیچتے ہیں اور گاہک خوشی سے رقم دے کر لے جاتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی وہی چیزیں موجود ہیں، پورے مہینے میں ایک چیز نہیں بیچ سکا، کیونکہ ہمارے پاس جب گاہک آتے ہیں تو ہم سے جاپانی چیزیں مانگتے ہیں، ہمارے پاس تو پاکستانی چیزیں ہیں، ہمارے آس پاس اور دُکان والوں کے پاس پاکستانی چیزیں ہیں، ہم صاف طور پر گاہک کو بتادیتے ہیں کہ یہ چیزیں پاکستانی ہیں، مگر گاہک نہیں لیتا۔ کیا ہم بھی غلط بات کرکے یا گول مول بات کرکے چیزیں بیچ سکتے ہیں؟

جواب:۔

جھوٹ بول کر سودا بیچنا حرام ہے،(۱) اس میں ایک تو جھوٹ بولنے کا گناہ ہے، دُوسرے مسلمانوں کے ساتھ دھوکا اور فریب کرنا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’تاجر لوگ قیامت کے دن بدکار ہونے کی حالت میں اُٹھائے جائیں گے، سوائے اس شخص کے جو نیکی کا کام کرے (مثلاً: صدقہ و خیرات دیا کرے) اور سچ بولے۔‘‘(۲)

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ: ’’جو شخص ہم کو (یعنی مسلمانوں کو) دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(۳)

اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ: ’’بہت بڑی خیانت کی بات ہے کہ تو اپنے بھائی (مسلمان) کو ایسی بات کہے کہ وہ اس میں تجھ کو سچا جانتا ہو اور تو اس پر جھوٹ کہہ رہا ہو۔‘‘(۴)

اگر کچھ لوگ جھوٹ فریب کے ساتھ تجارت کرتے ہیں تو اپنی دُنیا بھی بگاڑتے ہیں اور عاقبت بھی برباد کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی روزی میں برکت نہیں ہوتی۔(۵) وہ راحت و سکون کی دولت سے محروم رہتے ہیں اور ان کی دولت جس طرح حرام طریقے سے آتی ہے اسی طرح حرام راستے سے جاتی ہے۔ آپ ان کی ’’ریس‘‘ ہرگز نہ کریں، بلکہ گاہکوں کو بتادیا کریں کہ یہی کپڑا ہے جس کو دُوسرے لوگ جاپانی کہہ کر فروخت کر رہے ہیں۔ آپ کے سچ بولنے پر آپ کے مال میں اِن شاء اللہ برکت ہوگی اور قیامت کے دن بھی اس کا بڑا اَجر و ثواب ملے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور ولیوں کے ساتھ ہوگا۔‘‘(۶)

  1. (۱) عن عبداللہ بن أبی أوفٰی ان رجلًا أقام سلعۃ وھو فی السوق فحلف باللہ لقد أعطی بھا ما لم یعط لیوقع فیھا رجلًا من المسلمین فنزلت:ﵟ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشۡتَرُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَأَيۡمَٰنِهِمۡ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يَنظُرُ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﵞ آل عمران٧٧۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۸۰، باب ما یکرہ من الحلف فی البیع)۔
  2. (۲) عن إسماعیل ابن عبید بن رفاعۃ عن أبیہ عن جدہ أنہ خرج مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی المصلی فرأی الناس یتبایعون فقال: یا معشر التجار! فاستجابوا الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ورفعوا أعناقھم وأبصارھم إلیہ، فقال: ان التجار یبعثون فجار إلّا من اتقٰی وبرّ وصدق۔ (رواہ الترمذی ج:۱ ص:۱۴۵، باب ما جاء فی التجار، وابن ماجۃ ص:۱۶۱)۔
  3. (۳) عن أبی الحمراء قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر بجنبات رجل عندہ طعام فی وعاء فأدخل یدہ فیہ فقال: لعلک غششت من غشنا فلیس منا۔ (ابن ماجۃ ص:۱۶۱، باب النھی عن الغش، أیضًا: سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۱۳۳ باب فی النھی عن الغش، طبع امدادیہ)۔
  4. (۴) وعن سفیان بن أسد الحضرمی قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: کبرت خیانۃ ان تحدث أخاک ھو لک بہ مصدق وأنت بہ کاذب۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکوٰۃ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔
  5. (۵) عن حکیم ابن حزام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: البیعان ۔۔۔ فإن بینا وصدقا بورک لھما فی بیعھما وإن کذبا وکتما محق برکۃ بیعھما۔ (رواہ النسائی ج:۲ ص:۲۱۲، وجوب الخیار للمتبایعین قبل إفتراقھم)۔
  6. (۶) وعن أبی سعید عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: التاجر الصدوق الأمین مع النبیین والصدیقین والشھداء ۔۔۔إلخ۔ (رواہ الترمذی ج:۱ ص:۲۳۰)۔