خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
غلطبیانیکرکےفروختکئےہوئےمالکیرقمکیسےپاککریں؟
سوال۱:۔
دُکان داری میں جھوٹ بولنے سے رزق حرام ہوتا ہے یا نہیں؟
سوال۲:۔
اگر دُکان داری میں جھوٹ بولنے سے رزق حرام ہوتا ہے تو صدقات اور زکوٰۃ سے پاک ہوجاتا ہے یا نہیں؟
سوال۳:۔
جیسے کہ حرام مال کے بارے میں حدیث میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں، میری عمر ۱۷ سال کی ہے اور میں بالغ ہوں، اب ہمارے گھر میں مال و دولت حرام ہے، اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ یہ تو ہمارے بڑوں کی غلطی ہے، اب مجھے گھر میں رہنا چاہئے یا گھر چھوڑ کر چلا جانا چاہئے؟
جواب۱:۔
جھوٹ بول کر اگر کسی کو دھوکا دیا گیا اور نفع کمایا گیا تو حرام ہے۔(۱)
جواب۲:۔
نادانستہ غلط بیانی سے جو کراہت آتی ہے وہ تو پاک ہوجاتی ہے،(۲) مگر صریحاً دھوکا دے کر کمایا ہوا مال پاک نہیں ہوتا۔(۳)
جواب۳:۔
اگر حرام سے بچنا ناممکن ہے تو اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرلیں۔(۴)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِﵞ النساء٦٩۔ قال المظھری: کالدعوی الزور والشھادۃ بالزور أو الحلف بعد إنکار الحق والغصب والنھب والسرقۃ والخیانۃ۔ (تفسیر مظھری ج:۱ ص:۲۰۹)۔ عن واثلۃ بن الأسقع قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من باع عیبًا، ما لم ینبہ، لم یزل فی مقت اللہ أو لم تزل الملائکۃ تلعنہٗ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۹، کتاب البیوع، باب المنھی عنھا من البیوع)۔ أیضًا: (فروع) لَا یحل کتمان العیب فی مبیع أو ثمن لأن الغش حرام۔ (درمختار ج:۵ ص:۴۷، باب خیار العیب، البحر الرائق ج:۶ ص:۳۵)۔
- (۲) عن قیس ابن ابی غرزۃ قال: کنّا فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نسمی السماسرۃ فمر بنا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فسمانا باسم ھو أحسن منہ فقال: یا معشر التجار! ان البیع یحضرہ اللغو والحلف فشوبوہ بالصدقۃ۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۱۶، کتاب البیوع، باب فی التجارۃ یخالطھا الحلف واللغو، ابن ماجۃ ص:۱۵۵، باب التوقی فی التجارۃ)۔
- (۳) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ النساء٦٩۔۔ قال المظھری: کالدعوی الزور ۔۔۔ والسرقۃ والخیانۃ۔ (تفسیر مظھری ج:۱ ص:۲۰۹)۔ قَالَ تَعَالَى ﵟ وَقَدۡ نُهُواْ عَنۡهُ وَأَكۡلِهِمۡ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ قال المظھری: أی بالرشوۃ والخداع والغصب وغیر ذٰلک من الوجوہ المحرمۃ۔ (تفسیر مظھری ج:۶ ص:۲۷۴)۔
- (۴) قَالَ تَعَالَى ﵟ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ﵞالمائدة ٣ قَالَ تَعَالَىﵟ وَمَن يَعۡمَلۡ سُوٓءًا أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورٗا رَّحِيمًا ﵞالنساء :١١٠

