خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
سودابیچنےکےلئےجھوٹیقسمکھانا
سوال:۔
یہ جو ہمارے اکثر گھرانوں میں بات بے بات قسم خدا، قسم قرآن کی کھاتے ہیں، چاہے وہ بات سچی ہو یا جھوٹی، لیکن عادت سے مجبور ہوتے ہیں، اس کے بارے میں کچھ فرمائیے تو مہربانی ہوگی کہ ان سچی، جھوٹی قسموں کی سزا کیا ہے؟ ہمارے اکثر تاجر حضرات جن سے ہمارا روزانہ واسطہ پڑتا ہے، مثلاً: کپڑے کے تاجر وغیرہ وہ بھی اپنا مال بیچنے کے لئے پانچ منٹ میں کتنی قسمیں کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’’یہ بھاؤ ایمان داری کا بھاؤ ہے‘‘ چاہے وہ بھاؤ سچا ہو یا جھوٹا، اور اکثر اسی بھاؤ میں کمی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’’ہم آپ کی خاطر تھوڑا سا نقصان اُٹھا رہے ہیں‘‘، ’’خدا کی قسم! ہم اپنا نقصان کر رہے ہیں‘‘ اور ’’قرآن کی قسم ہم نے آپ سے ایک پائی بھی منافع نہیں لیا‘‘ حالانکہ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تاجر حضرات ہمارے لئے نقصان اُٹھائیں اور کاروں میں گھومیں، جواب ضرور دیں۔
جواب:۔
جھوٹی قسم کھانا بہت بڑا گناہ ہے،(۱) اگر کسی کو اس کی عادت پڑگئی ہو تو اس کو توبہ کرنی چاہئے اور اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ سودا بیچنے کے لئے قسم کھانا اور بھی بُرا ہے۔(۲) حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن تاجر لوگ بدکاروں کی حیثیت میں اُٹھائے جائیں گے، سوائے اس تاجر کے جو خدا سے ڈرے اور غلط بیانی سے باز رہے۔(۳)
- (۱) عن عبداللہ بن عمرو عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الکبائر الْإشراک باللہ وعقوق الوالدین وقتل النفس والیمین الغموس۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۸۷، باب یمین الغموس)۔ وعن عمران بن حصین قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من حلف علٰی یمین مصبورۃ کاذبًا فلیتبوأ بوجہہ مقعدہ من النار۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۰۶، کتاب الأیمان والنذور)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من حلف علٰی یمین صبر وھو فیھا فاجر یقطع بھا مال امریء مسلم لقی اللہ یوم القیامۃ وھو علیہ غضبان۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۸۷، وأبوداوٗد ج:۲ ص:۱۰۶)۔ وعن أبی ذر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ثلاثۃ لَا یکلمھم اللہ یوم القیامۃ ولَا ینظر إلیھم ولَا یزکیھم ولھم عذاب الیم، قال أبوذر: من ھم یا رسول اللہ؟ قال: المسبل والمنّان والمنفّق سلعتہ بالحلف الکاذب۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص: ۲۴۳، باب المساھلۃ فی المعاملۃ)۔
- (۳) عن إسماعیل ابن عبید بن رفاعۃ عن أبیہ عن جدہ أنہ خرج مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی المصلی فرأی الناس یتبایعون فقال: یا معشر التجار! فاستجابوا الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ورفعوا أعناقھم وأبصارھم إلیہ، فقال: ان التجار یبعثون فجارًا إلّا من اتقٰی وبرّ وصدق۔ (رواہ الترمذی ج:۱ ص:۲۳۰، أبواب البیوع، وابن ماجۃ ص:۱۵۵)۔

