بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

چوکیداری‌کا‌حق‌اور‌کمپنی‌کا‌کارڈ‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

ایک مسئلہ جو آج کل لوگوں میں عام ہے کہ اکثر بازاروں کی چوکیداری ایک دُوسرے پر قیمتاً فروخت کرنا ہے، چونکہ اس پر پہلے والے چوکیدار نے قیمت ادا نہیں کی ہوتی اور نہ ہی کوئی محنت مشقت کی ہوتی ہے، تو اس نوکری پر روپے لینا حرام ہے یا حلال؟ یا کوئی ایسی کمپنی کا کارڈ ہو کہ اس میں عام آدمی بھرتی نہیں ہوسکتے، جیسا کہ آج کل کیماڑی کے پورٹ اور پورٹ قاسم میں مزدوروں کو حکومت نے پکے کارڈ دئیے ہیں اور عام آدمی پکے مزدوروں میں بھرتی نہیں ہوسکتے۔ اور وہ مزدور اپنا کارڈ تقریباً ایک لاکھ پر فروخت کرتے ہیں اور لوگ بہت خوشی سے خرید لیتے ہیں، تو یہ کارڈ فروخت کرنا یا خریدنا حرام ہے یا حلال؟

جواب:۔

مذکورہ حقوق کی خرید و فروخت صحیح نہیں، اس سے حاصل شدہ مال حرام ہے۔(۱)

  1. (۱) وقال فی الدر المختار: وفی الأشباہ لَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ کحق الشفعۃ۔ وقال الشامی: (قولہ لَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ عن الملک) قال فی البدائع الحقوق المجردۃ لَا تحمل التملیک ولَا یجوز الصلح عنھا۔ (شامی ج:۴ ص:۵۱۸ مطلب لَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔