خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
حرامچیزکافروختکرناجائزنہیں
سوال:۔
میں آسٹریلیا میں رہتی ہوں، وہاں کے لوگ زیادہ تر غیرمسلم ہیں، اس ملک میں کھانے پینے کی چیزوں میں حرام جانوروں کے اجزاء ملائے جاتے ہیں، کیا یہ چیزیں فروخت کرنا جائز ہے؟ کیا ان کی آمدنی حلال ہے؟ اگر اس آمدنی کا کچھ حصہ نکال دیا جائے تو یہ حلال ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
جیلٹن جس میں کہ جانوروں کی چربی شامل ہوتی ہے اور وہ جانور شرعی طور پر ذبح کئے ہوئے نہیں ہوتے، شرعاً ان کا اِستعمال جائز نہیں ہے،(۱) اور جن چیزوں کا اِستعمال جائز نہیں، ان کا فروخت کرنا بھی جائز نہیں، اور ان کی آمدنی بھی حلال نہیں۔(۲)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ ﵞ المائدة ٣وعن جابر أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن اللہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والأصنام، فقیل: یا رسول اللہ! أرأیت شحوم المیتۃ فإنہ یطلی بھا السفن ویدھن بھا الجلود ویستصبح بھا الناس؟ فقال: لَا، ھو حرام۔ ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: قاتل اللہ الیھود! إن اللہ لما حرَّم شحومھا جملوہ ثم باعوہ فأکلوا ثمنہ۔ رواہ الجماعۃ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۱۱۱، باب حرمۃ بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر)۔
- (۲) وعن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ الیھود! وحرمت علیھم الشحوم فباعوا وأکلوا أثمانھا وإن اللہ إذا حرَّم علٰی قوم أکل شیء حرَّم علیھم ثمنہ۔ (إعلاء السُّنن، باب حرمۃ بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر ج:۱۴ ص:۱۱۱، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔

