خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
عورتوںکیملازمتشرعاًکیسیہے؟
سوال:۔
میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا شریعت میں یہ جائز ہے کہ عورتیں دفتروں میں نوکری کریں یا مل، کارخانے میں، کیا ایسا کوئی قانون قرآن میں آیا ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صادر فرمایا ہے؟ برائے مہربانی اس کا جواب آپ تفصیل سے ارشاد فرمائیں، آپ کی عین نوازش ہوگی۔
جواب:۔
عورت کا نان و نفقہ اس کے شوہر کے ذمہ ہے،(۱) لیکن اگر کسی عورت کے سر پر کوئی کمانے والا نہ ہو تو مجبوری کے تحت اس کو کسبِ معاش کی اجازت ہے،(۲) مگر شرط یہ ہے کہ اس کے لئے باوقار اور باپردہ انتظام ہو،(۳) نامحرَم مردوں کے ساتھ اختلاط جائز نہیں۔(۴)
- (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ ﵞالنساء ٣٤۔ وَقَالَ تَعَالَىﵟ وَعَلَى ٱلۡمَوۡلُودِ لَهُۥ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ لَا تُكَلَّفُ نَفۡسٌ إِلَّا وُسۡعَهَاۚ ﵞ البقرة ٢٣٣۔ أیضًا: ونفقۃ الغیر تجب علی الغیر بأسباب ثلاثۃ: زوجیۃ، وقرابۃ، وملک (فتجب للزوجۃ) بنکاح صحیح (علٰی زوجھا) لأنھا جزاء الْإحتباس ۔۔۔إلخ۔ (درمختار فی الشامی ج:۳ ص:۵۷۲، باب النفقۃ)۔
- (۲) عن عائشۃ قالت: خرجت سودۃ ۔۔۔ إلٰی أن قالت فرجعت إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فذکرت ذالک لہ وھو فی حجرتی یتغشٰی وإن فی یدہ لعرقًا فأنزل علیہ فرفع عنہ وھو یقول قد أذن اللہ لکنّ أن تخرجن لحوائجکنّ۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۸۸)۔ وقال فی فتح القدیر: وھو قولہ لأن نفقتھا وعسٰی لَا تجد من یکفیھا مؤنتھا فتحتاج إلی الخروج لنفقتھا غیر أن أمر المعاش یکون بالنھار عادۃ دون اللیالی فابیح الخروج لھا بالنھار دون اللیالی ویعرف من التعلیل أیضًا انھا إذا کان لھا قدر کفایتھا صارت ۔۔۔ والحاصل ان مدار الحل کون غیبتھا سبب قیام شغل المعیشۃ فیقدر بقدرہ فمتی أنقضت حاجتھا لَا یحل لھا بعد ذٰلک صرف الزمان خارج بیتھا۔ (فتح القدیر ج:۴ ص:۱۶۶، باب العدۃ)۔
- (۳) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ﵞ الأحزاب ٥٩
- (۴) عن أبی سعید الأنصاری عن أبیہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء فی الطریق، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للنساء: استأخرن فإنہ لیس لکُنَّ ان تحققن الطریق علیکنّ بحافات الطریق۔ فکانت المرأۃ تلصق بالجدار حتّٰی إن ثوبھا یتعلق بالجدار من لصوقھا بہ۔ وعن ابن عمر أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی أن یمشی یعنی الرجل بین المرأتین۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۳۶۸)۔

