بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

ملازم‌کا‌اپنی‌پنشن‌حکومت‌کو‌بیچنا‌جائز‌ہے

سوال:۔

آج کل عام طور پر یہ رواج ہوگیا ہے کہ وہ لوگ جو پنشن پر جاتے ہیں اپنی پنشن بیچ دیتے ہیں جو کہ عموماً حکومت ہی خرید لیتی ہے، اور عمر کے لحاظ سے اس کی شرح کم یا زیادہ مقرّر کرکے پنشنر کو یکمشت رقم ادا کردیتی ہے۔ اس کے بعد پنشنر چاہے دُوسرے دن ہی فوت ہوجائے یا ۱۰۰ سال تک زندہ رہے۔ کیا یہ طریقہ شرعی طور پر ٹھیک ہے؟ اور کیا اس طرح پنشن بیچنے میں کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:۔

یہ معاملہ حکومت کے ساتھ جائز ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ جو شخص پنشن پر جارہا ہے، حکومت کے ذمہ اس کی جو رقم پنشن کی شکل میں واجب الاد ہے، وہ اس کا اس وقت تک مالک نہیں ہوتا، جب تک کہ اس رقم کو وصول نہ کرلے۔ اب اس پنشن کو گورنمنٹ کے پاس فروخت کرنے کا مطلب یہ ٹھہرتا ہے کہ گورنمنٹ اس سے معاہدہ کرتی ہے کہ وہ اپنا یہ حق چھوڑ دے اور اس کے بجائے وہ اتنی رقم نقد لے لے، اور ملازم اپنے استحقاق کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ پس یہاں درحقیقت کسی رقم کا رقم کے ساتھ تبادلہ نہیں بلکہ تاحینِ حیات جو اس کا استحقاق تھا، اس کا معاوضہ وصول کرنا ہے، اس لئے شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔(۱)

  1. (۱) وبیع الدین لَا یجوز، ولو باعہ من المدیون أو وھبہ جاز۔ (الأشباہ والنظائر ج:۴ ص:۱۴ القول فی الدین، أیضًا: فتاویٰ حقانیۃ ج:۶ ص:۳۹، ۴۰)۔