بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

تنخواہ‌کے‌ساتھ‌کمیشن‌لینا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

میں جس جگہ اس وقت کام کر رہا ہوں، وہ ایک نجی ادارہ ہے، میں وہاں صبح و شام کام کرتا ہوں، درمیان میں کھانے کا وقفہ بھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں یہاں صرف نوکری کرتا ہوں، میرا کوئی شراکت وغیرہ کا مسئلہ نہیں ہے، لیکن جب آج سے ڈیڑھ سال قبل میں نے نوکری شروع کی تو ان سے تنخواہ بھی طے کی جو بائیس سو روپے طے ہوئی، جبکہ میں بضد تھا کہ چھبیس سو روپے یا اس سے زائد ہو، لیکن وہ نہ مانے اور مجھ سے کہا کہ میں آپ کو ادارے کی آمدنی سے ۵فیصد کمیشن دُوں گا جو کہ ہر ماہ تقریباً ۵۵۰ روپے یا کبھی اس سے کم یا زیادہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ آپ اس کے جائز ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بیان کریں اور میری پریشانی کو دُور کریں۔

جواب:۔

آپ کی تنخواہ تو وہی ہے جو مقرّر کی گئی ہے، پانچ فیصد کمیشن دینے کا جو اس نے وعدہ کیا ہے اگر وہ خوشی سے دے تو لینا جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۵)۔