خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
مسجدکاپُراناسامانفروختکرنا
سوال:۔
نیو کراچی میں تھوڑے فاصلے پر دو مسجدیں ہیں، دونوں مسجدیں عام اِینٹوں اور چھتیں سیمنٹ کی چادروں سے بنی ہوئی ہیں۔ ایک مسجد کو ایک صاحبِ حیثیت پارٹی نے اپنے خرچ پر پکی اور عالیشان بنوانا شروع کردیا تو پُرانا سامان جس میں چادریں، پنکھے اور دُوسرا سامان شامل تھا، مسجد کی انتظامیہ نے فروخت کردیا، اس سامان کو عام لوگوں نے خریدا اور اپنے گھروں میں استعمال کیا۔ کیا اس مسجد کا سامان دُوسری مسجد کے فنڈ سے خرید کر اس میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟
جواب:۔
مسجد کا جو سامان اس کے کام کا نہ ہو، اس کو فروخت کرکے رقم مسجد میں لگانا صحیح ہے،(۱) اور جن لوگوں نے مسجد کا وہ سامان خریدا، وہ اس کو استعمال کرسکتے ہیں، ان کے استعمال کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ اسی طرح اس سامان کو خرید کو دُوسری مسجد میں بھی لگایا جاسکتا ہے، اور جو سامان مسجد کی ضرورت سے زائد ہو وہ دُوسری مسجد کو منتقل کردینا بھی صحیح ہے۔(۲)
- (۱) وذکر ابو اللیث فی نوازلہ حصیر المسجد إذا صار خلقا واستغنی أھل المسجد عنہ وقد طرحہ إنسان إن کان الطارح حیا فھو لہ وإن کان میتا لم یدع لہ وارثا أرجو أن لَا بأس بأن یدفع أھل المسجد إلٰی فقیر وینتفعوا بہ فی شراء حصیر آخر للمسجد والمختار أنہ لَا یجوز لھم أن یفعلوا ذٰلک بغیر أمر القاضی۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۴۵۸، الباب الحادی عشر)۔
- (۲) قال وفی فتاوی النسفی سئل شیخ الْإسلام عن أھل قریۃ رحلوا وتداعی مسجدھا إلی الخراب وبعض المتغلبۃ سیتولون علٰی خشب المسجد وینقلونہ إلٰی دورھم ھل لواحد من أھل المحلۃ أن یبیع الخشب بأمر القاضی ویمسک الثمن لیصرفہ إلٰی بعض المساجد أو إلٰی ھٰذا المسجد؟ قال: نعم وحکی انہ وقع۔ (منحۃ الخالق علی البحر الرائق ج:۵ ص:۲۷۴، کتاب الوقف، شامی ج:۲ ص:۳۶۰ مطلب فی نقل إنقضاء المسجد)۔

