بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

وقف‌شدہ‌جنازہ‌گاہ‌کی‌خرید‌و‌فروخت

سوال:۔

ہمارے گاؤں میں ایک جگہ جنازہ گاہ کے لئے وقف تھی، مگر حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے گندگی کا شکار ہوگئی اور وہاں جنازہ پڑھانا بند کردیا۔ ابھی وہاں گاؤں کے لوگوں کے لئے کنواں بنادیا گیا ہے، مگر کچھ جگہ بچ گئی ہے، جو ہمارے گھر کے ساتھ ہے اور ہمارا گھر تنگ ہے، تو ہمارا خیال ہوا کہ خرید کر مکان کو وسیع کرلیں، اگر یہ جگہ ہمارے لئے جائز ہو تو خرید کر اپنے استعمال میں لائیں۔

جواب:۔

وقف کی چیز کی خرید و فروخت جائز نہیں،(۱) اگر وہ جگہ کسی نے باقاعدہ وقف نہیں کی تھی بلکہ خالی جگہ دیکھ کر لوگوں نے گورنمنٹ کی منظوری کے بغیر جنازہ گاہ کے طور پر اس کو استعمال کرنا شروع کردیا تھا، مگر مستقل وقف کی نیت کسی نے نہیں کی، نہ اس کی منظوری گورنمنٹ سے لی گئی تھی تو اس کا فروخت کرنا اور آپ کو خریدنا جائز ہے۔

  1. (۱) قال فی الشرنبلالیۃ: صرح رحمہ اللہ ببطلان بیع الوقف، وأحسن بذٰلک، إذ جعلہ فی قسم البیع الباطل، إذ لَا خلاف فی بطلان بیع الوقف لأنہ لَا یقبل التملیک والتملک ۔۔۔ والحاصل أن ھٰھنا مسألتین: الأولٰی: أن بیع الوقف باطل ولو غیر مسجد۔ (الفتاوی الشامیۃ ج:۵ ص:۵۷ مطلب فی بطلان بیع الوقف)۔ وفی الھدایۃ ج:۲ ص:۶۱۶ کتاب الوقف: وإذا صح الوقف لم یجز بیعہ ولَا تملیکہ۔ وأیضًا فی البدائع ج:۶ ص:۲۲۱ کتاب الوقف والصدقۃ، طبع سعید۔