بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

چوری‌کی‌بجلی‌شرعاً‌جائز‌نہیں

سوال:۔

جہاں ہم رہتے ہیں وہاں تک بجلی نہیں پہنچ سکی ہے، لیکن بجلی کا پول قریب ہونے کی وجہ سے لوگ اس میں کنڈہ ڈال کر فی گھر سو روپے لے کر سب کو بجلی فراہم کرتے ہیں، جو ایک چوری اور خلافِ قانون بات ہے، جو ہمارے گھر میں بھی موجود ہے۔ اس کی روشنی میں ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سلسلے میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کیونکہ میرے منع کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا، لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تو پیسہ دیا ہے، مفت کی بجلی نہیں ہے۔

جواب:۔

چور اگر چوری کرکے سامان فروخت کردے اور آپ کو معلوم ہو کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کا خریدنا جائز نہیں، بلکہ حرام ہے۔ یہی حکم اس بجلی کا ہے۔(۱)

  1. (۱) وفی حظر الأشباہ: الحرمۃ تتعدد مع العلم بھا إلّا فی حق الوارث، (وفی الشامیۃ) ۔۔۔ وما نقل عن بعض الحنفیۃ من ان الحرام لَا یتعدی ذمتین ۔۔۔ ھو محمول علٰی ما إذا لم یعلم بذٰلک، أما لو رأی المکاس مثلًا یأخذ من أحد شیئًا من المکس ثم یعطیہ آخر ثم یأخذ من ذٰلک الآخر آخر فھو حرام۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۹۸ مطلب الحرمۃ تتعدد)۔ أیضًا: قال علیہ الصلاۃ والسلام: من اشتریٰ سرقۃ وھو یعلم أنھا سرقۃ فقد شرک فی عارھا وإثمھا۔ (فیض القدیر ج:۱ ص:۵۶۵۴ رقم الحدیث:۸۴۴۳، طبع مکتبہ نزار مصطفی الباز، ریاض)۔ أیضًا: لم یحل للمسلم أن یشتری شیئًا یعلم أنہ مغصوب، أو مسروق، أو مأخوذ من صاحبہ بغیر حق، لأنہ إذا فعل یعین الغاصب أو السارق أو المعتد علٰی غصبہ وسرقتہ وعداوتہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من اشتری سرقۃً (أی مسروقًا) وھو یعلم أنھا سرقۃ، فقد اشترک فی إثمھا وعارھا، البیھقی۔ (الحلال والحرام فی الْإسلام، لشیخ یوسف القرضاوی ص:۲۱۶ طبع المکتب الْإسلامی للطباعۃ والنشر)۔