خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
جساِدارےمیںآمدنیکےذرائعواضحنہہوںوہاںنوکریکرنا
سوال:۔
یوں تو میں خود بھی تفہیمِ دِین کی کوشش میں مصروف رہتا ہوں، تمام اہم احادیث اور صحاحِ ستہ بھی موجود ہے، لیکن پھر بھی ظاہر ہے دِین کا جو شعور علمائے کرام رکھتے ہیں، دُوسرے لوگ کم ہی رکھتے ہیں۔ میں صحافت سے وابستہ ہوں اور اس میں پھیلے مکروہات اور خرافات سے کبھی مفاہمت نہیں کرپایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں اپنے دِینی نظریات میں راسخ ہوتا جارہا ہوں۔ اس سے بظاہر چند مسائل فی الحال پیدا ہو رہے ہیں، میرا یہاں سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ اچھی طرح شعور ہو، آگاہی ہو کہ جس اِدارے میں کام کر رہے ہیں، حقیقتاً مالکان کا کردار مستحسن نہیں، عام طور پر تارکِ نماز ہو، قولاً اور عملاً جھوٹ نے انہیں اور انہوں نے جھوٹ کو اوڑھ رکھا ہو، انتہا درجے کا تعصب زبان وقومیت وغیرہ کے حوالے سے ان کی گھٹی میں پڑا ہو، اور اس کی آمدنی کے ذرائع بھی واضح نہ ہوں، جہاں کام کرکے آدمی ہرگز دِین کی، ملک کی کوئی خدمت انجام نہ دے سکے، ذہن وقلب پر افسردگی طاری رہے کہ آپ صرف رزق کی خاطر یہاں کام کر رہے ہیں، ورنہ اور کوئی جذبہ نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر واقعتا اور پوری کھلی آنکھوں سے صورتِ حال یہی ہو تو کیا ایک صحافی ایسے اِدارے میں کام کرسکتا ہے؟ جبکہ نماز کے تارک درجۂ کفر پر ہوں، جھوٹ انسانی بُرائیوں میں بدترین بُرائی ہو، اور اس سے ظاہر ہے خیر نہیں شر ہی پھوٹتا ہے۔ اندھا تعصب جو اِیمان کو دِل سے خارج کردے۔ کیا ایک مؤمن وہاں کام کرسکتا ہے؟ اسے کرنا چاہئے یا نہیں؟
جواب:۔
کسی اچھی جگہ ذریعہ معاش کی تلاش کرے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا بھی کرتا رہے، جب کوئی معقول ذریعہ معاش میسر آجائے تو ایسی جگہ کو چھوڑ دے۔(۱)
- (۱) وعن حسن ابن علی قال: حفظتُ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: دع ما یریبک إلٰی ما لَا یریبک، فإن الصدق طمانیۃ وإن الکذب ریبۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۲، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال)۔

