خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
گورنمنٹکیزمینپرناجائزقبضہکرنا
سوال:۔
کراچی میں رہائشی پلاٹ ’’کے۔ڈی۔اے‘‘ قیمتاً فروخت کرتی ہے، ہر مکان کے باہر سڑک سے متصل کچھ زمین چھوڑ دی جاتی ہے، جس کی قیمت پلاٹ خریدنے والا ادا نہیں کرتا، اس لئے اس کی ملکیت بھی نہیں ہوتی۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت اس کو اپنے استعمال میں لاتی ہے، ذاتی باغ بناکر جس میں عوام کا گزر نہیں ہوسکتا، یا مکان کا کچھ حصہ اس پر تعمیر کرکے۔ کیا یہ لوگ اس وعید میں نہیں آتے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کسی کی ایک بالشت زمین پر قبضہ کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بناکر ڈالی جائے گی؟
سوال:۔
دُوسرے وہ لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کو مکان نہیں ہے، اور نہ اتنا مال کہ قیمتاً خرید سکیں، انہوں نے خالی زمینوں پر قبضہ کیا اور مکان بناکر رہنے لگے، پھر ان مکانوں اور زمینوں کی خرید و فروخت بھی شروع کردی، جیسے ’’اورنگی ٹاؤن‘‘ میں رہنے والے بہت سے لوگ بغیر حکومت کی اجازت کے، اور قیمت ادا کئے بغیر زمین پر قابض ہوگئے ہیں، اب تک وہ زمین گورنمنٹ نے کسی کو الاٹ نہیں کی ہے، لیکن لوگ اس کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے شرع کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
یہ لوگ واقعی اس وعید میں داخل ہیں۔(۱)
جواب:۔
آدمی اپنی مملوکہ چیز کو فروخت کرنے کا حق رکھتا ہے، جو چیز اس کی ملکیت نہیں اس کو فروخت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، لہٰذا سرکاری اجازت کے بغیر جو لوگ زمین پر قابض ہیں وہ اس کو فروخت کرنے کے مجاز نہیں۔(۲)
- (۱) ان سعید ابن زید قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ظلم من الأرض شیئًا طوقہ من سبع أرضین۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۳۲، باب إثم من ظلم شیئًا من الأرض)۔ وعن یعلٰی بن مرۃ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایما رجل ظلم شبرًا من الأرض کلفہ اللہ عزّ وجلّ أن یحفرہ حتّٰی یبلغ آخر سبع أرضین ثم یطوقہ إلٰی یوم القیامۃ حتّٰی یقضی بین الناس۔ رواہ أحمد۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۶، باب الغصب والعاریۃ)۔
- (۲) وبطل ۔۔۔ بیع ما لیس فی ملکہ لبطلان بیع المعدوم ومالہ خطر العدم (قولہ لبطلان بیع المعدوم) إذ من شرط المعقود علیہ أن یکون موجودًا مالًا متقومًا مملوکًا فی نفسہ، وأن یکون ملک البائع فیما یبیعہ لنفسہ، وان یکون مقدور التسلیم۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ص:۵۸ باب البیع الفاسد)۔ أیضًا: وعن حکیم بن حزام قال: نھانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أن أبیع ما لیس عندی۔ (سنن ترمذی ج:۱ ص:۲۳۳، باب ما جاء فی کراھیۃ بیع ما لیس عندہ)۔

