بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

ہنڈی‌کا‌کاروبار‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

عرض یہ ہے کہ ہمارے یہاں دُبئی و ابوظہبی میں کچھ لوگ ہنڈی کا کاروبار کرتے ہیں، اور لوگ ان کو یہاں پر دُبئی کی کرنسی یعنی درہم دیتے ہیں اور موجودہ پاکستانی بینکوں سے تھوڑا ریٹ زیادہ دے کر رقم پاکستانی کرنسی میں بھیجنے والے کے گھر منی آرڈر یا بینک ڈرافٹ بھیج دیتے ہیں، یا دستی نقد رقم گھر پہنچادیتے ہیں۔ باوجودیکہ یہاں متحدہ عرب امارات میں عرب مسلمانوں کی حکومت ہے اور بعض مسلمانوں اور غیرمسلموں کو حکومت نے لائسنس (اِجازت نامہ) دئیے ہوئے ہیں، اور باقاعدہ نظم و ضبط کے ساتھ ہنڈی کا کاروبار کرتے ہیں، لاکھوں، کروڑوں روپے کی ہر قسم کی کرنسی ان کے شو کیسوں میں ہر وقت بھری رہتی ہے۔ تو ان کے خلاف تو آج تک کسی نے آواز نہیں اُٹھائی، مگر دُوسرے حضرات جن کی رجسٹریشن نہیں ہے، ہر ہفتے ’’بلادی‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ان کے خلاف مراسلے لکھ کر شائع کر رہے ہیں کہ یہ کاروبار حرام ہے، حب الوطنی کے خلاف اور ناجائز ہے۔

جواب:۔

ہنڈی کے کاروبار کو صاحبِ ہدایہ نے مکروہ(۱) اور بعد کے فقہاء نے جائز لکھا ہے۔(۲) اس لئے اگر گورنمنٹ کا قانون اجازت دیتا ہے تو گنجائش نکل سکتی ہے، اور حکومت کا بعض کو اِجازت دینا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ اَز رُوئے قانون جائز ہے، مگر اس کے لئے لائسنس ہونا چاہئے۔

  1. (۱) ویکرہ السفاتج وھی قرض استفادہ بہ المقروض سقوط خطر الطریق وھٰذا نوع استفید بہ وقد نھی الرسول علیہ السلام عن قرض جر نفعًا۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۱۳۱، کتاب الحوالۃ، أیضًا رد المحتار ج:۴ ص:۵۱۷ مطلب فی بیع الجامکیۃ، وج:۵ ص:۳۵۰ کتاب الحوالۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) قال ابن نجیم: (قولہ وکرہ السفاتج) حاصلہ عندنا قرض استفاد بہ المقرض أمن خطر الطریق للنھی عن قرض جر نفعہ وقیل إذا لم تکن المنفعۃ مشروطۃ فلا بأس بہ وفی البزازیۃ من کتاب الصرف ما یقتضی ترجیح الثانی فلا بأس بقبول ھدیۃ الغریم وإجابۃ دعوتہ بلا شرط ۔۔۔إلخ۔ (ھکٰذا فی البحر الرائق ج:۶ ص:۲۵۴، کتاب الحوالۃ)۔