بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

درزی‌کے‌پاس‌بچا‌ہوا‌کپڑا‌کس‌کا‌ہے؟

سوال:۔

میرے چھوٹے بھائی نے چند ماہ پہلے درزی کی دُکان کی تھی اور اس سال اس کا یہ پہلا رمضان تھا، چونکہ رمضان میں درزیوں کے پاس بہت کام آتا ہے، چنانچہ اس کے پاس بھی آیا اور بہت سارے کپڑوں کے ٹکڑے بچے۔ میرے بھائی کا کہنا ہے کہ: ’’گاہک تو خود پانچ یا چھ میٹر کپڑا جوڑے کے حساب سے لاتا ہے، اب اگر میں اپنے طور پر کٹنگ کرکے کپڑا بچالوں تو کوئی حرج نہیں ہے، اور بعض اوقات ایک ہی گھر کے کئی کئی جوڑے ایک ہی رنگ کے ہوتے ہیں، چنانچہ کٹنگ کے اختتام پر زیادہ کپڑا بچ جاتا ہے جو کارآمد ہوتا ہے‘‘ یہ کپڑا جو بچا، ہم اپنے گھر میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر ہم یہ کپڑا کسی غریب کو دے دیں تو کیا یہ عمل ٹھیک ہوگا؟ یا یہ کپڑا گاہک کو واپس کرنا ضروری ہے؟

جواب:۔

جو کپڑا بچ جائے وہ مالک کا ہے، اس کو واپس کردینا لازم ہے، اس کو خود اِستعمال کرنا یا کسی غریب کو دینا جائز نہیں، ورنہ چوری اور خیانت کا گناہ ہوگا۔(۱)

  1. (۱) کیونکہ یہ امانت ہے، اور اَمانت کو بروقت ادا کرنا ضروری ہے۔ ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا ﵞ النساء ٥٨۔ عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أدّ الأمانۃ إلٰی من إئتمنک ولَا تخن ما خانک۔ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۱۴۲ کتاب البیوع)۔ أیضًا: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۱۰ کتاب الْإیمان)۔ أیضًا: لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃ منہ۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۶۱ رقم المادۃ:۹۶، طبع حبیبیہ کوئٹہ، أیضًا: الأشباہ والنظائر ص:۲۷۶ الفن الثانی، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔