خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
صرّافلاپتازیوراتکاکیاکرے؟
سوال:۔
ہمارے ایک دوست صرّاف ہیں، ان کے پاس ان کے والد صاحب مرحوم کے وقت میں مختلف لوگوں نے زیورات بنانے کے لئے سونا دیا تھا، ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، جس کو تقریباً بیس سال ہوچکے ہیں۔ ان کے بعد کئی لوگ آئے اور اپنا سونا زیورات کی شکل میں لے گئے، لیکن اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی چیز واپس لینے نہیں آئے، اب وہ ساتھی پوچھ رہے ہیں کہ اس سونے کو کیا کیا جائے؟ براہِ کرم اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
جواب:۔
عام طور پر صرّافوں کے پاس اپنے گاہکوں کے نام اور پتے لکھے ہوتے ہیں (اور چونکہ موت و حیات کا پتا نہیں، اس لئے لکھ لینا بھی ضروری ہے)، پس جن لوگوں کی امانتیں والد صاحب کے زمانے سے پڑی ہیں، اگر ان کے نام اور پتے محفوظ ہیں تو ان کے گھر پر اطلاع کرنا ضروری ہے، اور اگر محفوظ نہ ہوں تو کسی ممکنہ ذریعے سے تشہیر کردی جائے، اور تشہیر کے ایک سال بعد تک اگر کوئی نہ آئے تو ان کا حکم گمشدہ چیز کا ہوگا، اور مالک کی طرف سے ان کو صدقہ کردیا جائے گا۔(۱) لیکن اگر صدقہ کرنے کے بعد مالک یا اس کے وارثوں کا پتا چلا تو ان کو مطلع کرنا لازم ہے، پھر ان کو اِختیار ہوگا کہ اگر وہ چاہیں تو اس صدقے کو بحال رکھیں اور چاہیں تو اپنی چیز وصول کرلیں۔
اگر وہ اپنی چیز کا مطالبہ کریں تو جو رقم اس نے صدقہ کی ہے وہ خود اس کی طرف سے سمجھی جائے گی اور مالک کو اتنی رقم ادا کرنا لازم ہوگا۔(۲) اس لئے ضروری ہوگا کہ صدقہ کرنے کی صورت میں یہ یادداشت تحریری طور پر لکھ کر رکھی جائے کہ ’’فلاں شخص کے اتنے زیورات مالک کا پتا نشان نہ ملنے کی وجہ سے اس کی طرف سے صدقہ کردئیے گئے ہیں، اگر کبھی اس شخص کا یا اس کے وارثوں کا پتا چلا، اور انہوں نے اس کا مطالبہ کیا تو انہیں اس کا معاوضہ ادا کردیا جائے‘‘ اس تحریر کا وصیت نامہ کی شکل میں محفوظ رہنا ضروری ہے۔
- (۱) قال: فإن کانت أقل من عشرۃ دراھم عرفھا أیامًا وإن کانت عشرۃ فصاعدًا عرفھا حولًا، قال العبد الضعیف: وھٰذا روایۃ عن أبی حنیفۃ وقولہ أیامًا معناہ علٰی حسب ما یراہ الْإمام وقدرہ محمد فی الأصل بالحول من غیر تفصیل بین القلیل والکثیر۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۵۹۴، کتاب اللقطۃ، طبع محمد علی کارخانہ)۔
- (۲) فإن جاء صاحبھا وإلّا تصدق بھا ایصالًا للحق إلی المستحق وھو واجب بقدر الْإمکان وذٰلک بإیصال عینھا عند الظفر بصاحبھا ۔۔۔ فإن جاء صاحبھا یعنی بعد ما تصدق بھا فھو بالخیار إن شاء أمضی الصدقۃ ولہ ثوابھا لأن التصدق وإن حصل بإذن الشرع لم یحصل بإذنہ فیتوقف علٰی إجازتہ ۔۔۔ وإن شاء ضمن الملتقط لأنہ سلم مالہ إلٰی غیرہ بغیر إذنہ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۵۹۵ کتاب اللقطۃ، طبع محمد علی کارخانہ اسلامی کتب)۔

