بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

مالکان‌کی‌بتلائی‌قیمت‌سے‌زیادہ‌گاہکوں‌سے‌وصول‌کرکے‌آدھی‌رقم‌اپنے‌پاس‌رکھنا

سوال:۔

میرے چھوٹے بھائی کی حال ہی میں ایک دُکان پر نوکری لگی ہے، کام کی نوعیت یہ ہے کہ جو سامان انہیں فروخت کرنا پڑتا ہے، مالکان اس کی قیمت بھی بتادیتے ہیں کہ فلانی چیز اس قیمت پر فروخت کرنی ہے، اگر اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں اور مالکوں کو پتا چل جائے تو وہ نوکری سے بھی نکال سکتے ہیں۔ لیکن میرا بھائی موقع پاتے ہی دُگنی قیمت پر چیزیں فروخت کرتا ہے، پھر اصل قیمت مالکوں کو دیتا ہے، باقی اپنے لئے رکھ لیتا ہے۔ اس کام میں اس کے ساتھ کچھ اور لڑکے بھی شریک ہیں، میری نظر میں یہ سراسر حرام ہے، کیونکہ جس چیز پر وہ دُگنی قیمت لیتے ہیں وہ ان کی نہیں، اور جن کی ہے ان کی طرف سے اِجازت بھی نہیں، اور پھر اس کے فروخت کرنے کے لئے وہ جھوٹ بھی بولتے ہیں۔ محترم! اگر یہ آمدنی جائز نہیں تو میرے گھر والوں کے لئے کیا حکم ہے جو اس کی حمایت کرتے ہیں؟

جواب:۔

آپ کا بھائی جس دُکان پر ملازم ہے، چیزیں فروخت کرنے میں ان کا وکیل ہے، اور وکیل کے لئے یہ جائز نہیں کہ زیادہ قیمت کی چیز بیچ کر مالک کو تھوڑے پیسے دے،(۱) اس لئے آپ کے بھائی کی یہ زائد آمدنی سراسر حرام اور خنزیر کی طرح پلید ہے، اس کو اس سے توبہ کرنی چاہئے اور گھر والوں کو بھی، ورنہ قبر اور حشر میں اس کا حساب دینا ہوگا اور ’’نیکی برباد، گناہ لازم‘‘ والا معاملہ ہوگا، نماز اور عبادت بھی قبول نہیں ہوگی،(۲) واللہ اعلم!

  1. (۱) الوکیل إذا باع أن یکون أمینًا فیما یقبضہ من الثمن۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۲ ص:۱۳۴، کتاب الوکالۃ)۔ أیضًا: فإن الوکیل ممن لَا یثبت لہ حکم تصرفہ وھو الملک فإن الوکیل بالشری لَا یملک المشتری والوکیل بالبیع لَا یملک الثمن ۔۔۔ لأن الوکیل یملک التصرف من جھۃ الموکل۔ (الجوھرۃ النیرۃ ص:۳۰۰ کتاب الوکالۃ، طبع حقانیہ)۔
  2. (۲) عن ابن عمر قال: من اشتری ثوبًا بعشرۃ دراھم وفیہ درھم حرام لم یقبل اللہ تعالٰی لہ صلٰوۃ ما دام علیہ، ثم اصبعیہ فی اذنیہ وقال: صمّتا ان لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سمعتہ یقولہ۔ رواہ أحمد والبیھقی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۳، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، طبع قدیمی)۔