خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کیاحکومتچیزوںکیقیمتمقرّرکرسکتیہے؟
سوال:۔
حکومت بعض چیزوں کی قیمت مقرّر کردیتی ہے، تو کیا اس طرح قیمت مقرّر کرنا دُرست ہے؟ اور کیا اس سے زائد قیمت میں بیچنا خفیہ طریقے سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
قیمت مقرّر کردینا ضرورت کے وقت جائز ہے، جبکہ اَربابِ اَموال تعدّی کرتے ہوں۔ اسی طرح ضرورت کے وقت حنفیہ کے نزدیک ہر چیز کی قیمت مقرّر ہوسکتی ہے۔ زائد قیمت پر فروخت کرنا بہتر تو نہیں ہے، لیکن اگر فروخت کردیتا ہے تو بیع (یعنی فروخت مکمل) ہوجائے گی۔(۱)
- (۱) فإن کان أرباب الطعام یتحکموا ویتعدون عن القیمۃ تعدیا فاحشا وعجز القاضی عن صیانۃ حقوق المسلمین إلّا بالتسعیر فحینئذ لَا بأس بہ بمشورۃ من أھل الرأی والبصیرۃ فإذا فعل ذٰلک وتعدی رجل عن ذٰلک وباع بأکثر منہ اجازہ القاضی وھٰذا ظاھر عند أبی حنیفۃ لأنہ لَا یری الحجر علی الحر وکذا عندھما إلّا أن یکون الحجر علٰی قوم بأعیانھم، ومن باع فھم بما قدروہ الْإمام صح لأنہ غیر مکرہ علی البیع۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۴۷۰ کتاب الکراھیۃ، فصل فی البیع)۔ أیضًا: ولَا یسعّر الحاکم إلّا إذا تعدی الأرباب تعدیًّا فاحشًا، فیسعّر بمشورۃ أھل الرأی۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۴۰۰ کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع، أیضًا: المحیط البرھانی ج:۸ ص:۲۶۸ الفصل الخامس والعشرون طبع غفاریہ)۔

