بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

اسلام‌میں‌حقِ‌شفعہ‌کی‌شرائط

سوال:۔

کیا اسلام میں شفعہ کرنا جائز ہے؟ جس طرح کہ اگر والدین اپنی جائیداد کا کچھ حصہ یا ساری جائیداد کسی دُوسرے کے ہاتھ فروخت کردیں تو اس شخص کی اولاد یا اس کے رشتہ دار حقِ شفعہ کرسکتے ہیں؟ اور وہ لوگ اسلامی قوانین کی رُو سے واپس لینے کے حق دار ہیں یا کہ نہیں؟ میں نے ایک آدمی سے سنا ہے کہ حقِ شفعہ اسلام میں جائز نہیں۔

جواب:۔

اسلام میں حقِ شفعہ تو جائز ہے،(۱) مگر اس کے مسائل ایسے نازک ہیں کہ آج کل نہ تو لوگوں کو ان کا علم ہے، اور نہ ان کی رعایت کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک حقِ شفعہ صرف تین قسم کے لوگوں کو حاصل ہے:

اوّل:۔ وہ شخص جو فروخت شدہ جائیداد (مکان، زمین) میں شریک اور حصہ دار ہے۔

دوم:۔ وہ شخص جو جائیداد میں تو شریک نہیں، مگر جائیداد کے متعلقات میں شریک ہے، مثلاً: دو مکانوں کا راستہ مشترکہ ہے، یا زمین کو سیراب کرنے والی پانی کی نالی دونوں کے درمیان مشترک ہے۔

سوم:۔ وہ شخص جس کا مکان یا جائیداد فروخت شدہ مکان یا جائیداد سے متصل ہے۔

ان تین اَشخاص کو علی الترتیب حقِ شفعہ حاصل ہے، یعنی پہلے جائیداد کے شریک کو، پھر اس کے متعلقات میں شریک شخص کو، اور پھر ہمسائے کو حقِ شفعہ حاصل ہوگا۔ اگر پہلا شخص شفعہ نہ کرنا چاہے، تب دُوسرا کرسکتا ہے، اور دُوسرا نہ کرنا چاہے، تب تیسرا کرسکتا ہے۔(۲)

اس سے معلوم ہوا ہوگا کہ فروخت کنندہ کی اولاد یا اس کے رشتہ دار ان تین فریقوں میں سے کسی فریق میں شامل نہیں ہیں، تو ان کو محض اولاد یا رشتہ دار ہونے کی بنا پر شفعہ کا حق نہیں۔

پھر جس شخص کو شفعہ کا حق حاصل ہے، اس کے لئے لازم ہے کہ جب اسے مکان یا جائیداد کے فروخت کئے جانے کی خبر پہنچے، فوراً بغیر کسی تأخیر کے یہ اعلان کرے کہ: ’’فلاں مکان فروخت ہوا ہے اور مجھے اس پر حقِ شفعہ حاصل ہے، میں اس حق کو استعمال کروں گا‘‘ اور اپنے اس اعلان کے گواہ بھی بنائے۔(۳)

اس کے بعد وہ بائع کے پاس یا مشتری کے پاس (جس کے قبضے میں جائیداد ہو) یا خود اس فروخت شدہ جائیداد کے پاس جاکر بھی یہی اعلان کرے، تب اس کا شفعہ کا حق برقرار رہے گا،(۴) ورنہ اگر اس نے بیع کی خبر سن کر سکوت اختیار کیا اور شفعہ کرنے کا فوری اعلان نہ کیا تو اس کا حقِ شفعہ ساقط ہوجاتا ہے۔(۵) ان دو مرتبہ کی شہادتوں کے بعد وہ عدالت سے رُجوع کرے اور وہاں اپنے استحقاق کا ثبوت پیش کرے۔(۶)

اب آپ دیکھ لیجئے کہ آج کل جو شفعہ کئے جارہے ہیں، ان میں ان اَحکام کی رعایت کہاں تک رکھی جاتی ہے۔ اس لئے اگر کسی سے آپ نے یہ سنا ہے کہ: ’’اسلام میں اس قسم کے حقِ شفعہ کی اجازت نہیں‘‘ تو ایک درجے میں یہ بات صحیح ہے۔ لوگ تو رائج الوقت قانون کو دیکھتے ہیں، شریعت میں کون سی بات صحیح ہے، کون سی صحیح نہیں؟ اس کی رعایت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔

  1. (۱) عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الشفعۃ فی کل شرک ربعۃ أو حائط لَا یصح أن یبیع حتّٰی یؤذن شریکہ فإن باع فھو أحق بہ حتّٰی یؤذنہ۔ وعن سمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: جار الدار أحق بدار الجار والأرض۔ وعن جابر بن عبداللہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الجار أحق بشفعۃ جارہ ینتظر بھا وإن کان غائبًا إذا کان طریقھما واحد۔ (رواہ ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۴۰، باب فی الشفعۃ)۔
  2. (۲) قال فی الھدایۃ: الشفعۃ واجبۃ للخلیط فی نفس المبیع ثم للخلیط فی حق المبیع کالشرب والطریق ثم للجار۔ أفاد بھٰذا اللفظ ثبوت حق الشفعۃ لکل واحد من ھٰؤلَاء وأفاد الترتیب، أما الثبوت فلقولہ علیہ السلام: الشفعۃ لشریک لم یقاسم، ولقولہ علیہ السلام: جار الدار أحق بالدار ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۳۹۰، کتاب الشفعۃ)۔ أیضًا: قال ابن ھمام: وأما الترتیب فلقولہ علیہ السلام: الشریک أحق من الخلیط والخلیط أحق من الشفیع فالشریک فی نفس المبیع والخلیط فی حقوق المبیع والشفیع ھو الجار ۔۔۔إلخ۔ (ھٰکذا فی فتح القدیر ج:۸ ص:۳۰۰، کتاب الشفعۃ)۔ أیضًا: قال فی الھدایۃ: ولیس للشریک فی الطریق والشرب والجار شفعۃ مع الخلیط فی الرقبۃ لما ذکرنا انہ مقدم۔ قال فإن سلم فالشفعۃ للشریک فی الطریق فإن سلم أخذھا الجار۔ لما بینا من الترتیب ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۳۹۰)۔
  3. (۳) وإذا علم الشفیع بالبیع اشھد فی مجلسہ ذٰلک علی المطالبۃ وقال فی الکفایۃ وکذٰلک إن کان بمحضر من الشھود ینبغی لہ أن یشھدم علٰی طلبہ ۔(فتح القدیر ج:۸ ص:۳۰۷، کتاب الشفعۃ)۔
  4. (۴) (ثم ینھض منہ) یعنی من المجلس ویشھد علی البائع إن کان المبیع فی یدہ) معناہ لم یسلم إلی المشتری أو علی المبتاع أو عند العقار فإذا فعل ذٰلک استقرت شفعتہ۔ وصورۃ ھٰذا الطلب أن یقول ان فلانا اشتریٰ ھٰذہ الدار وأنا شفیعھا وقد کنت طلبت الشفعۃ وأطلبھا الآن فاشھدوا علٰی ذٰلک ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۳۹۱، باب طلب الشفعۃ)۔
  5. (۵) اعلم ان الطلب علٰی ثلاثۃ أوجہ، طلب المواثبۃ وھو أن یطلبھا کما علم حتّٰی لو بلغ الشفیع ولم یطلب شفعتہ بطلت الشفعۃ لما ذکرنا ولقول علیہ السلام الشفعۃ لمن واثبھا ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۳۹۰، باب طلب الشفعۃ)۔
  6. (۶) وإذا تقدم الشفیع إلی القاضی فادعی الشراء وطلب الشفعۃ سأل القاضی المدعٰی علیہ فإن اعترف بملکہ الذی یشفع بہ وإلّا کلفہ بإقامۃ البینۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۳۹۲، باب طلب الشفعۃ والخصومۃ فیھا)۔