خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
ٹھیکیداریکاکمیشندینااورلینا
سوال:۔
گورنمنٹ کے مختلف محکموں میں ٹھیکیداری کے سلسلے میں چند مسائل دریافت کرنے ہیں۔ ٹھیکے کی بولی (ٹینڈر) کے وقت ٹھیکیدار حضرات آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اسلم، زید یا فلاں شخص ٹھیکہ لے لیں اور ٹھیکے کے بدلے میں دُوسرے ٹھیکیداروں کو رینگ دے دیں، یعنی کچھ رقم جو بقایا ٹھیکیدار آپس میں بانٹ لیں گے، رینگ لینے والے ٹھیکیدار حضرات جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ:
ت:۔ ہم نے گورنمنٹ کو باقاعدہ فیس دی ہے۔
ت:۔ موجودہ ٹھیکے کے لئے کال ڈپازٹ %۲ (دو فیصد) بطور ضمانت اسی ٹھیکے کے لئے پیشگی جمع کردی۔
ت:۔ ٹھیکے کے لئے ٹینڈر فارم کے پیسے ناقابلِ واپسی ۵۰۰ روپے یا ۲۵۰ روپے جمع کرتے ہیں، چاہے ہم ٹھیکہ لیں یا نہ لیں، لہٰذا یہ رینگ ہمارا محنت، سرمایہ اور فیس کی وجہ سے حق بنتا ہے۔
نوٹ:۔ کال ڈپازٹ کی رقم واپسی ہوتی ہے۔
رینگ کی صورت میں وہ ٹھیکیدار جو ٹھیکہ لیتا ہے، پورا پورا ریٹ (پریمیم) بھرلیتا ہے، مقابلے کی صورت میں ہر ٹھیکیدار کم ریٹ بھرتا ہے، اس صورت میں محکمہ کو بھی نقصان، اپنا بھی نقصان اور کام کا بھی نقصان ہوتا ہے، اور رینگ کی صورت میں ایک حد تک کام صحیح ہوتا ہے، یعنی شرعاً اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کیا حکم ہے کہ رینگ لینا دینا کیسا ہے؟
سوال:۔
سرکاری محکموں میں یہ ایک قسم کا رواج ہے کہ جس طرح بھی اچھا کام کریں لیکن آفیسر صاحبان اپنا کمیشن لیتے ہیں، بغیر کمیشن آپ کا کام جتنا بھی صحیح ہو حکومت یا محکمے کے شیڈول کے مطابق کام ہو، پھر بھی کمیشن نہیں چھوڑتے اور کام نامنظور ہوجاتا ہے، اور اگر کمیشن نہ دو تو ٹھیکیداری چھوڑنا ہوگی، جبکہ ٹھیکیداری میری مجبوری ہے، لہٰذا کمیشن دینا کیسا ہے؟ اور میرا ٹھیکیداری کا بقایا یعنی کمایا ہوا روپیہ کیسا ہے، جائز یا ناجائز؟
سوال:۔
ٹھیکے میں بعض یارباش آفیسر، ٹھیکیدار کو بطور تعاون بل زیادہ دیتا ہے، مثلاً: کھدائی ۹۰ فٹ ہوئی ہے اور آفیسر ۱۰۰ فٹ کے پیسے دیتے ہیں، یہ زائد ۱۰ فٹ کے پیسے کیسے ہیں؟
سوال:۔
جبکہ آفیسر جواز یہ پیش کرتا ہے کہ جس کام کے لئے گورنمنٹ نے جو پیسہ یا رقم مختص کی ہے اور ہمیں استعمال کی اجازت ہے، وہی کام مکمل کرکے بقیہ رقم ٹھیکیدار کا حق ہے، اس لئے ہم زائد بل بناتے ہیں۔ اور بعض دفعہ اس زائد رقم کو ٹھیکیدار اور آفیسر بانٹ لیتے ہیں۔
جواب:۔
یہ رینگ رشوت کے حکم میں ہے اور یہ جائز نہیں،(۱) لینے والے حرام کھاتے ہیں۔(۲) مقابلے سے بچنے کے لئے وہ یہ بھی تو کرسکتے ہیں کہ آپس میں یہ طے کرلیا کریں کہ فلاں ٹھیکہ فلاں شخص لے گا، اس طرح آپس میں ٹھیکے بانٹ لیا کریں۔
جواب:۔
یہ بھی رشوت ہے، اگر دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو توقع ہے کہ دینے والے پر پکڑ نہیں ہوگی، لیکن لینے والا بہرحال حرام کھائے گا۔(۳)
جواب:۔
خالص حرام ہیں۔(۴)
جواب:۔
ٹھیکیدار سے یہ طے کرلیا جائے کہ اتنا کام، اتنی ہی رقم میں کرائیں گے،(۵) کام کم کرانا اور پیسے زیادہ کے دینا جائز نہیں، اور مالِ حرام ملی بھگت ہی سے کھایا جاتا ہے۔
- (۱) الرشوۃ: مثلثۃ ما یعطی لِابطال حق، أو لِاحقاق باطل، قالہ السید، وفی کشاف المصطلحات: الرشوۃ لغۃ ما یتوصل بہ إلی الحاجۃ بالمضایقۃ بأن تصنع لہ شیئًا لیصنع لک شیئًا آخر، قال ابن الأثیر: وشرعًا: ما یأخذہ الآخذ ظلمًا بجھۃ یدفعہ الدافع إلیہ من ھٰذہ الجھۃ وتمامہ فی صلح الکرمانی، فالمرتشی الآخذ والراشی ھو الدافع کذا فی جامع الرموز فی کتاب القضاء وفی البرجندی: الرشوۃ مال یعطیہ بشرط أن یعینہ والذی یعطیہ بلا شرط فھو ھدیۃ کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (قواعد الفقہ ص:۳۰۷، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔
- (۲) عبداللہ بن عمر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی والمرتشی۔ (رواہ الترمذی ج:۱ ص:۲۲۸، وأبوداوٗد ج:۲ ص:۱۴۸)۔ أیضًا فی الدر المختار: الرشوۃ لَا تملک بالقبض۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۶ ص:۴۲۳، فصل فی البیع)۔
- (۳) ثم الرشوۃ أربعۃ أقسام ۔۔۔ الرابع: ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علٰی نفسہ، أو مالہ، حلال للدافع، حرام علی الآخذ، لأن دفع الضرر عن المسلم واجب۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۳۶۲)۔ أیضًا: لو اضطر إلٰی دفع مرشوۃ لِإحیاء حقہ جاز لہ الدفع وحرم علی القابض۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۷۲، مطلب فی التداوی بلبن البنت للرمد)۔
- (۴) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ النساء ٢٩بما لم تبحہ الشریعۃ من نحو السرقۃ، والخیانۃ، والغصب، والقمار، وعقود الربا۔ (التفسیر النسفی ج:۱ ص: ۳۵۱، طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔
- (۵) قال ابن ھمام: (قولہ ولَا تصح حتّٰی تکون المنافع معلومۃ والأجرۃ معلومۃ لما روینا وھو قول علیہ السلام من استأجر أجیرًا فلیعلمہ أجرہ، وھٰذا الحدیث بعبارتہ دل علٰی إشتراط اعلام الأجرۃ وبدلَالتہ علٰی إشتراط اعلام المنافع۔۔إلخ۔ (فتح القدیر ج:۸ ص:۶، کتاب الْإجارۃ) أیضًا: وفی البزازیۃ: وکذا لو قال أصلح ھٰذا الجدار بھٰذا الدرھم یجوز وإن لم یذکر الوقت لأنہ یمکن لہ الشروع فی العمل حالًا ۔۔۔إلخ۔ (البزازیۃ بھامشہ عالمگیری ج:۵ ص:۴۰، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

