خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کیابلڈنگوغیرہکاٹھیکہجائزہے؟
سوال:۔
کسی بلڈنگ وغیرہ کے بنانے کا یا کوئی چیز بھی جس کے فائدے نقصان دونوں کا احتمال ہو، ٹھیکہ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس میں بعض دفعہ بہت فائدہ ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ نقصان۔
جواب:۔
ایسا ٹھیکہ جائز ہے۔(۱)
- (۱) کل ما ینتفع بہ مع بقاء عینہ تجوز إجارتہ وما لَا فلا۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۷۳۳، الفصل الثالث، عقد الْإیجار)۔ أیضًا: والْإجارۃ لَا تخلوا إمّا أن تقع علٰی وقت معلوم أو علٰی عمل معلوم، فإن وقعت علٰی عمل معلوم، فلا تجب الأجرۃ إلّا بإتمام العمل إذا کان العمل مما لَا یصلح أولہ إلّا بآخرہ، وإن کان یصلح أوّلہ دون آخرہ فتجب الأجرۃ بمقدار العمل۔ (النتف فی الفتاویٰ ص:۳۳۸ کتاب الْإجارۃ، طبع سعید)۔ أیضًا: إستأجرہ لیبنی لہ حائطًا بالآجرّ والجص وعلم طولہ وعرضہ جاز ۔۔۔ ولو إستأجرہ لحفر البئر إن لم یبین الطول والعرض والعمق، جاز إستحسانًا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۴ ص:۴۵۱، کتاب الْإجارۃ، الباب الخامس، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

