بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

مزدوری‌حلال‌کمائی‌سے‌وصول‌کیجئے

سوال:۔

مولانا صاحب! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دِینِ اسلام نے ہم پر ناجائز کمائی حرام کی ہے۔ اگر ایک مسلمان سارا دن محنت مزدوری کرتا ہے یا کوئی کاروبار یا تجارت وغیرہ کرتا ہے، محنت سے اپنی مزدوری کماتا ہے لیکن اس کے پاس جو رقم آئے فرض کریں کہ وہ حرام کی ہے تو کیا اس شخص پر بھی یہ روپیہ حرام ہے، جبکہ اس شخص نے یہ روپیہ اپنی محنت سے کمایا ہے اور اپنی محنت کے مطابق ہی حاصل کیا ہے؟ براہِ کرم اس سوال کا جواب تسلی بخش دیں۔

جواب:۔

اگر آپ کی محنت جائز تھی تو آپ کے لئے مزدوری حلال ہے، دو شرطوں کے ساتھ۔ ایک یہ کہ آپ نے کام صحیح کیا ہو، اس میں کام چوری سے احتراز کیا ہو۔ دوم یہ کہ جو کام آپ نے کیا، شرعاً اس کا کرنا جائز بھی ہے۔ اس کے بعد اگر مالک حرام کے پیسے سے آپ کو اُجرت دیتا ہے تو اسے قبول نہ کیجئے، بلکہ اس کو مجبور کیجئے کہ کسی سے حلال روپیہ قرض لے کر آپ کا محنتانہ ادا کرے۔(۱) اس کے حرام روپے سے آپ کا محنتانہ لینا جائز نہیں ہوگا، اگر آپ کو معلوم ہو کہ فلاں فرد یا ادارہ حرام کے روپے سے آپ کی مزدوری دے گا، اس کی مزدوری ہی نہ کی جائے۔

  1. (۱) ما حرم أخذہ حرم إعطائہ۔ وفی الحاشیۃ: کالربا ومھر البغی والرشوۃ وحلوان الکاھن وأجرۃ النائحۃ والزامر۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔ أیضًا: الحرام ینتقل أی تنتقل حرمتہ وإن تداولتہ الأیدی وتبدلت الأملاک۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۸، باب بیع الفاسد)۔ أیضًا: لو رأی المکاس مثلًا یأخذ من أحد شیئًا من المکس ثم یعطیہ آخر ثم یأخذ من ذالک الآخر آخر فھو حرام اھـ۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۸، باب البیع الفاسد، مطلب الحرمۃ تتعد، أیضًا: إمداد الفتاویٰ ج:۳ ص:۳۷۷ کتاب الْإجارۃ)۔