بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

ٹرانسپورٹ‌کی‌گاڑیوں‌کی‌خرید‌و‌فروخت‌میں‌بدعنوانیاں

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار اکثر اس طرح سے ہوتے ہیں کہ مثلاً: ایک آدمی نے ایک گاڑی نقد پچاس ہزار روپے میں خریدی، پھر دُوسرے آدمی پر ساٹھ ہزار اُدھار پر فروخت کی، اور خریدنے والا ہر مہینے میں تین ہزار قسط ادا کرے گا، مگر اس خرید و فروخت میں ایک شرط یہ رکھی جاتی ہے کہ یہ رقم گاڑی پر ہوگی، آدمی پر نہیں ہوگی، خدانخواستہ اگر گاڑی کہیں جل جائے یا گم ہوجائے تو بیچنے والا شخص خریدنے والے پر رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور یہ شرط معروف ہے، برابر ہے کہ کوئی خرید و فروخت کے وقت اس کا اظہار کرے یا نہ کرے، بہرصورت اس پر عمل ہوتا ہے اور خریدنے والے نے جتنی رقم ادا کی ہو وہ بھی گاڑی کے ضائع ہونے پر ختم ہوجاتی ہے۔

۱:۔ کیا یہ خرید و فروخت اَز رُوئے شریعت جائز ہے؟

۲:۔ اگر جائز نہیں تو اس سے حاصل کیا ہوا منافع سود میں شمار ہوگا یا نہیں؟ یہ رقم خریدنے والے پر ہوگی یا گاڑی پر؟ اور اس گاڑی کے کاغذات بھی بیچنے والے کے پاس ہوتے ہیں جب تک قرضہ ختم نہ ہوجائے، کیا اس سے خرید و فروخت پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

جواب:۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خرید و فروخت شرطِ فاسد پر مشتمل ہونے کی بنا پر شرعاً ناجائز ہے۔(۱) شریعت کے قانون کے مطابق جب ایجاب و قبول مکمل ہوجاتے ہیں تو خرید و فروخت مکمل ہوجاتی ہے،(۲) اور بیچنے والے پر واجب ہوجاتا ہے کہ خریدار کو سودا سپرد کرے، اور خریدار پر واجب ہوجاتا ہے کہ وہ سودے کی قیمت ادا کرے۔(۳) اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ قیمت ادا کرنے سے قبل مبیع ہلاک ہوجائے، ضائع ہوجائے، وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال مشتری (خریدار) پر واجب ہے کہ وہ قیمت ادا کرے، کیونکہ قیمت کا تعلق خریدار کے ساتھ ہے نہ کہ سودے کے ساتھ، یعنی قیمت خریدار پر واجب ہوتی ہے نہ کہ سودے پر، اور خرید و فروخت میں اس قسم کی شرط لگانا کہ ’’اگر سودا قیمت ادا کرنے سے قبل ضائع ہوگیا تو بقیہ قیمت ختم ہوجائے گی‘‘ شرعاً فاسد ہے، اور ایسی شرط کے ساتھ خرید و فروخت کرنا ناجائز ہے۔(۴) لہٰذا اگر کوئی شخص مذکورہ شرطِ فاسد کے ساتھ خرید و فروخت کرے تو اس پر شرعاً واجب ہے کہ وہ اس خرید و فروخت کو منسوخ کردے اور شرطِ فاسد کو ختم کرکے دوبارہ اَزسرِنو خرید و فروخت کرے۔(۵) لیکن اگر اس قسم کی شرطِ فاسد کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کے بعد مبیع (سودا) ضائع ہوجائے جبکہ ابھی تک قیمت ادا کرنا باقی ہے تو خرید و فروخت ناقابلِ منسوخ ہونے کی وجہ سے خریدار کے ذمہ قیمت ادا کرنا اور بھی مستحکم ہوگیا ہے، لہٰذا خریدار پر شرعاً قیمت ادا کرنا لازم ہے۔(۶) ہاں! بیچنے والا اگر سودا ہلاک ہوجانے کی بنا پر خریدار کو تبرعاً معاف کردے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اور بصورتِ مذکورہ بیع فاسد ہونے کے باوجود چونکہ مشتری کی ملکیت میں گاڑی آگئی تھی اس لئے خریدار کے واسطے اس گاڑی سے انتفاع حاصل کرنا جائز ہے۔(۷) نیز بائع اگر قیمت وصول کرنے تک کاغذات اپنے پاس بطور وثیقہ رکھنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن حقوقِ ملکیت مشتری کو مل جانا ضروری ہے۔

  1. (۱) کل شرط لَا یقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین أو للمعقود علیہ وھو أھل الْإستحقاق یفسدہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۹، باب البیع الفاسد)۔ أیضًا: کل شیء یشرطہ المشتری علی البائع یفسد بہ البیع۔ (درمختار ج:۵ ص:۸۵، باب البیع الفاسد)۔ والبیع الفاسد غیر جائز۔ (درمختار ج:۵ ص:۴۹، باب البیع الفاسد)۔
  2. (۲) البیع ینعقد بالْإیجاب والقبول إذا کانا بلفظی الماضی مثل أن یقول أحدھما: بعت، والآخر: إشتریت ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۱۸، کتاب البیوع)۔ وإذا حصل الْإیجاب والقبول لزم البیع ولَا خیار لواحد منھما۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۰)۔
  3. (۳) ومن باع سلعۃ بثمن قیل للمشتری: إدفع الثمن أوّلًا لأن حق المشتری تعین فی المبیع فیقدم دفع الثمن لتعین حق البائع بالقبض لما انہ لَا یتعین بالتعین تحقیقًا للمساواۃ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۳۳، ۳۴، کتاب البیوع)۔
  4. (۴) ولو کان البیع بشرط لَا یقتضیہ العقد، وفیہ نفع لأحد المتعاقدین أی البائع والمشتری أو لمبیع یستحق النفع بأن یکون آدمیًا، فھو أی ھٰذا البیع فاسد۔ (مجمع الأنھر ج:۳ ص:۹۰ کتاب البیوع، باب البیع الفاسد)۔ أیضًا: وکل شرط لَا یقتضیہ العقد، وفیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین أو للمعقود علیہ، وھو من أھل الْإستحقاق یفسدہ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۶۲، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد)۔ ولو کان فی الشرط منفعۃ لأحد المتعاقدین بأن شرط البائع أن یقرض المشتری أو علی القلب، یفسد العقد۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۳ ص:۵۰ کتاب البیوع، الفصل الخامس، طبع رشیدیہ)۔
  5. (۵) ویجب علٰی کل واحد منھما فسخ قبل القبض أی فسخ البیع الفاسد أو بعدہ ما دام المبیع بحال فی ید المشتری إعدامًا للفساد لأنہ معصیۃ، فیجب رفعھا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، باب بیع الفاسد ج:۵ ص:۹۰، ۹۱)۔ أیضًا: ولکل منھما فسخ یعنی کل واحد منھما فسخہ، لأن رفع الفساد واجب علیھما۔ (تبیین الحقائق، کتاب البیوع ج:۴ ص:۴۰۲)۔
  6. (۶) وإذا قبض المشتری المبیع برضاء بائعہ صریحًا أو دلَالۃً بأن قبضہ فی مجلس العقد بحضرتہ فی البیع الفاسد ۔۔۔ ملکہ ۔۔۔ بمثلہ إن مثلیا وإلّا فبقیمتہ یعنی إن بعد ھلاکہ أو تعذر ردہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع تنویر الأبصار ج:۵ ص:۸۸-۹۰، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، طبع ایچ ایم سعید)۔
  7. (۷) بخلاف البیع الفاسد فإنہ لَا یطیب لہ لسفاد عقدہ ویطیب للمشتری فیہ لصحۃ عقدہ۔ وفی الشامیۃ: (قولہ بخلاف البیع الفاسد) فإن ردہ واجب علی البائع قبل البیع لَا علی المشتری لعدم بقاء المعنی الموجب للرد کما قدمنا فلم یتمکن الخبیث فیہ فلذا طاب للمشتری، وھٰذا لَا ینافی ان نفس الشراء مکروہ لحصولہ للبائع سبب حرام ولأن فیہ إعراضًا عن الفسخ الواجب ھٰذا ظھر لی۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ج:۵ ص:۹۸، مطلب البیع الفاسد لَا یطیب لہ، باب بیع الفاسد)۔