خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
چیزکاوزنکرتےوقتخریدارکیموجودگیضروریہے
سوال:۔
جو چیزیں وزن کرکے، یعنی تول کر بکتی ہیں ان کی خریداری کے وقت خریدار کا، اس وقت جبکہ وزن کیا جارہا ہو، موجود ہونا ضروری ہے؟ کیونکہ اس صورت میں خریدار کے وقت کا حرج ہوتا ہے۔ کیا وہ دُکان دار پر اعتبار کرسکتا ہے؟ اگر اعتبار کرسکتا ہے تو اپنی ملکیت میں آنے کے بعد اس کا وزن کرکے اطمینان کرلینا ضروری ہے یا بغیر وزن کئے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے یا آگے اس کو فروخت کرسکتا ہے؟
جواب:۔
جو چیز وزن کرکے لی جائے، اس کی تین صورتیں ہیں:
ایک صورت یہ ہے کہ جب دینے والے نے وزن کرکے دی، اس وقت خریدار یا اس کا نمائندہ تول پر موجود تھا، اس صورت میں آگے فروخت کرتے وقت دوبارہ تولنا ضروری نہیں، بغیر وزن کئے آگے بیچ سکتے ہیں، اور خود کھاپی سکتے ہیں۔(۱)
دُوسری صورت یہ کہ اس وقت خریدار یا اس کا نمائندہ موجود نہیں تھا، بلکہ اس کی غیرموجودگی میں دُکان دار نے چیز تول کر ڈال دی، اس صورت میں اس چیز کو اِستعمال کرنا اور آگے بیچنا بغیر تولنے کے جائز نہیں،(۲) البتہ اگر دینے والے دُکان دار کو یہ کہہ دیا جائے کہ مثلاً: اس تھیلے میں جتنی بھی چیز ہے، خواہ کم یا زیادہ وہ اتنے پیسوں میں خریدتا ہوں تو دوبارہ وزن کرنے کی ضرورت نہیں۔(۳)
تیسری صورت یہ ہے کہ بوریوں، تھیلوں اور گانٹھوں کے حساب سے خرید و فروخت ہو، تو خواہ ان کا وزن کم ہو یا زیادہ، ان کو دوبارہ تولنے کی ضرورت نہیں۔(۴)
- (۱) (وکفٰی کیلہ من البائع بحضرتہ) أی المشتری بعد البیع۔ (قولہ وکفٰی کیلہ إلخ) قال فی الخانیۃ لو اشتریٰ کیلیا مکابلۃ أو موزون موازنۃ فکال البائع بحضرۃ المشتری قال الْإمام ابن الفضل یکفیہ کیل البائع ویجوز لہ أن یتصرف فیہ قبل أن یکیلہ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۱۵۱، مطلب فی تصرف البائع فی المبیع قبل القبض، کتاب البیوع)۔
- (۲) (اشتریٰ مکیلا بشرط الکیل حرم) أی حرم تحریمًا بیعہ وأکلہ حتّٰی یکیلہ) وقد صرحوا بفسادہ۔ قال الشامی (قولہ وقد صرحوا) صرح محمد فی الجامع الصغیر بما نصہ محمد عن یعقوب عن أبی حنیفۃ قال: إذا اشتریت شیئًا مما یکال أو یوزن أو یعد فاشتریت ما یکال کیلًا ویوزن وزنًا ویعد عدًّا فلا تبعہ حتّٰی تکیلہ وتزنہ وتعدہ فإن بعتہ قبل أن تفعل وقد قبضتہ فالبیع فاسد فی الکیل والوزن۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ج:۵ ص:۱۴۹، وفی البحر الرائق ج:۶ ص:۱۱۷، کتاب البیوع)۔
- (۳) کبیع التعاطی فإنہ لَا یحتاج فی الموزونات إلٰی وزن المشتری ثانیًا لأنہ صار بیعًا بالقبض بعد الوزن فیہ وعلیہ الفتویٰ خلاصۃ (قولہ کبیع التعاطی إلخ) عبارۃ البحر وھٰذا کلہ غیر بیع التعاطی ۔۔۔ وھٰذا کلہ أنہ لَا یتقید بالموزونات بل التعاطی فی المکیلان والمعدودات کذٰلک ۔۔إلخ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۱۵۰، ومجموعۃ الفتاویٰ ص:۲۳۰)۔
- (۴) (قولہ بخلافہ مجازفۃ) محترز قولہ بشرط الکیل وقولہ شرط الوزن والعدای لو اشتریٰ مجازفۃ لہ أن یتصرف فیہ قبل الکیل والوزن لأن کل المشار إلیہ لہ أی الأصل والزیادۃ۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۱۵۰، فصل فی التصرف فی المبیع)۔

