خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
قیمتزیادہبتاکرکملینا
سوال:۔
جو چیز ہم تیار کرتے ہیں اس چیز کو فروخت کرنے کے لئے ایک ریٹ مقرّر کرنا ہوتا ہے کہ یہ چیز اتنے پیسے میں دُکان دار کو دینی ہے، اگر ہم اتنے پیسے ہی دُکان دار کو بتائیں تو وہ اتنی قیمت پر نہیں لیتا، کچھ نہ کچھ کم کراتا ہے، اگر ہم اس مسئلے کو زیر نظر رکھتے ہوئے کچھ روپے زیادہ بتادیں تاکہ اوسط برابر آجائے جتنا وہ کم کرائے گا، تو کیا ایسا کرنا مناسب ہے یا یہ بات جھوٹ میں شمار ہوتی ہے؟ شریعت کے مطابق جواب سے نوازئیے۔
جواب:۔
گو، دام بتاکر اس میں سے کم کرنا جھوٹ تو نہیں، اس لئے جائز ہے،(۱) مگر اُصولِ تجارت کے لحاظ سے یہ رواج غلط ہے، ایک دام بتانا چاہئے۔ شروع میں تو لوگ پریشان کریں گے، مگر جب سب کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ بازار سے بھی کم نرخ ہے اور یہ کہ ان کا ایک ہی اُصول ہے تو پریشان کرنا چھوڑ دیں گے، بلکہ اس میں راحت محسوس کریں گے۔
- (۱) وصح الحط منہ (درمختار)۔ (قولہ وصح الحط منہ) أی من الثمن وکذا من رأس المال السلم ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۱۵۴، باب المرابحۃ والتولیۃ، مطلب فی تعریف الکر)۔

