خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
گانےبجانےکےکیسٹفروختکرناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
موجودہ دور وحالات میں دن بدن آسائش وتعیش کے سامان میں اِضافہ بلکہ مزید اِضافہ ہوتا جارہا ہے، جن میں سے ایک میوزک گانا بجانا وغیرہ، اور دُوسرا کہانیوں اور ڈائجسٹ جو کہ سراسر جھوٹ وفریب پر مبنی ہوتے ہیں۔ آپ حضرات سے یہ عرض ہے کہ ان حضرات کا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ ان حضرات سے دُعا وسلام رکھنی چاہئے یا نہیں؟ ان حضرات کی کھانے پینے کی اشیاء کو قبول کرنا چاہئے یا نہیں؟ وغیرہ۔ یہ حضرات دلیل قائم کرتے ہیں کہ موسیقی رُوح کی غذا ہے اور گانے بجانے کی کیسٹ کے ساتھ ساتھ ہم اپنی دِینی اور علمائے کرام کی تقاریر بھی بیچتے ہیں۔ لائبریری والے حضرات اسکول، کالج وغیرہ کی کاپیاں وپین وغیرہ کا عذر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہانیاں اور ڈائجسٹ پڑھنے سے ہماری نالج میں اِضافہ ہوتا ہے اور ہم اُردو اچھی بول لکھ سکتے ہیں وغیرہ۔
ان حضرات کے عذر ودلیل قرآن وسنت میں کیا حیثیت رکھتی ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
جو چیزیں بذاتِ خود ناجائز ہیں، ان کی خرید وفروخت بھی ناجائز ہے۔(۱) باقی ان حضرات کے دلائل غلط ہیں۔
- (۱) قلت وأفاد کلامھم ان ما قامت المعصیۃ بعینہ یکرہ بیعہ تحریمًا وإلّا فتنزیھًا۔ قولہ نھر: عبارتہ وعرف بھٰذا انہ لَا یکرہ بیع ما لم تقم المعصیۃ بہ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۶۸، باب البغاۃ)۔ أیضًا: ونظیرہ کراھۃ بیع المعازف لأن المعصیۃ تقام بھا عینھا۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۲۶۸، باب البغاۃ)۔

