خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
غیرشرعیکتبکاکاروبارشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
ایک شخص کتابوں کا کاروبار کرتا ہے، معاملاتِ دِین میں بھی باشعور ہے، اس کے باوجود غیرشرعی کتابیں بلکہ شرکیہ کتب بھی فروخت کرتا ہے، جب اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ کتابیں آپ کیوں فروخت کرتے ہیں؟ تو کہتا ہے: میں کتابیں پڑھتا نہیں صرف بیچتا ہوں۔
جواب:۔
ایسی کتابوں کا کاروبار دُرست نہیں، ان صاحب کو یہ کاروبار ترک کردینا چاہئے۔(۱)
- (۱) ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢۔ ولَا یجوز الْإستئجار علی المعاصی کاستئجار الْإنسان للعب واللھو المحرم ۔۔۔ وانتساخ کتب البدع المحرمۃ ۔۔۔ لأنہ إستئجار علٰی معصیۃ، والمعصیۃ لَا تستحق بالعقد۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۴ ص:۷۴۴، الفصل الثالث، عقد الْإیجار)۔

