خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
حلالوحرامکیآمیزشوالےمالسےحاصلکردہمنافعحلالہےیاحرام؟
سوال:۔
اگر کسی کے پاس جائز رقم، ناجائز رقم کے مقابلے میں کم، زیادہ یا برابر تھی، اگر اس مجموعی رقم سے کوئی جائز کاروبار کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والا منافع قابلِ استعمال ہے یا نہیں؟
جواب:۔
منافع کا حکم وہی ہے جو اَصل مال کا ہے، اگر اصل مال حلال ہے تو منافع بھی حلال، اور اگر اصل حرام ہے تو منافع کا یہی حال ہوگا۔ لہٰذا جس نسبت سے حلال مال اصل میں لگا ہے اسی نسبت سے منافع بھی پاک ہوگا، باقی حرام۔(۱)
- (۱) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ۔۔۔ ان اللہ إذا حرم علٰی قوم أکل شیء، حرم علیھم ثمنہ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۱۰۴)۔ أیضًا: قال ابن عابدین (قولہ اکتسب حرامًا إلخ) قال رجل اکتسب مالًا حرامًا ثم اشتریٰ فھٰذا علٰی خمسۃ أوجہ، اما ان دفع تلک الدراھم إلی البائع أوّلًا ثم اشتریٰ منہ بھا أو اشتریٰ قبل الدفع بھا ودفعھا أو اشتریٰ قبل الدفع بھا ودفع غیرھا أو اشتریٰ مطلقًا ودفع تلک الدراھم او اشتریٰ بدراھم اُخر ودفع تلک الدراھم قال ابو نصر یطیب لہ ولَا یجب ان یتصدق إلّا فی الوجہ الأوّل لٰـکن ھٰذا خلاف ظاھر الراویۃ فإن نص فی جامع الصغیر وقال الکرخی فی الوجہ الأوّل والثانی لَا یطیب وفی الثلاث الأخیر یطیب وقال ابوبکر لَا یطیب فی الکل لٰـکن الفتویٰ علٰی قول الکرخی ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۵ ص:۲۳۵، باب المتفرقات، مطلب إذا اکتسب حرامًا ثم اشتری فھو علٰی خمسۃ أوجہ)۔

