خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
سونےچاندیکیخریدوفروختدونوںطرفسےنقدہونیچاہئے
سوال:۔
اگر کوئی شخص سونا یا چاندی گھر والوں کو پسند کرانے کے لئے لاتا ہے اور پھر بعد میں دُوسرے دن یا کچھ عرصے کے بعد اس کی رقم بیچنے والے کو دیتا ہے تو کیا یہ خرید و فروخت دُرست ہے یا نہیں؟ اگر دُرست نہیں ہے تو کون سی صورت دُرست ہے؟ کیونکہ گھر والوں کو دِکھائے بغیر یہ چیز خریدی نہیں جاتی۔
جواب:۔
گھر والوں کو دِکھانے کے لئے لانا جائز ہے،(۱) لیکن جب خریدنا ہو تو دونوں طرف سے نقد معاملہ کیا جائے، اُدھار نہ کیا جائے۔(۲) اس لئے گھر والوں کو دِکھانے کے لئے جو چیز لے گیا تھا اس کو دُکان دار کے پاس واپس لے آئے، اس کے نقد دام ادا کرکے وہ چیز لے جائے۔
- (۱) وأما خیار الرؤیۃ فثابت فی العین دون الدین۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۹۲، باب خیار الرؤیۃ، طبع بیروت)۔
- (۲) باب الصرف ھو لغۃ: الزیادۃ، وشرعًا: بیع الثمن بالثمن أی ما خلق للثمنیۃ ومنہ المصوغ جنسًا بجنس أو بغیر جنس کالذھب بفضۃ ویشترط عدم التأجیل والخیار والتماثل ۔۔۔ والتقابض بالبراجم لَا بالتخلیۃ قبل الْإفتراق ۔۔۔إلخ۔ (درمختار، باب الصرف ج:۵ ص:۲۵۷، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

