بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کرنسی‌کی‌خرید‌و‌فروخت‌کا‌طریقہ

سوال:۔

کیا روپوں کا روپوں کے ساتھ تبادلہ جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر جائز ہے تو کیا لینے والا اس کے بدلے میں روپیہ ایک دن کے بعد دے سکتا ہے یا ضروری ہے کہ اسی وقت دے؟ اور اگر اس وقت دینا ضروری ہے اور کسی کے پاس اس وقت نہ ہو تو کیا یہ حرام ہوگا یا حلال؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں بتلائیں۔

سوال:۔

اگر کسی کے پاس اس وقت رقم نہ ہو تو کوئی ایسی صورت ہے جس کی وجہ سے وہ رقم (روپیہ) ابھی لے لے اور اس کے بدلے میں رقم (روپیہ) بعد میں دے دے؟

سوال:۔

بعض مرتبہ ہم لوگ ایک ملک کی کرنسی (ڈالر یا ریال) لیتے ہیں اور اس کے بدلے میں دُوسرے ملک کی کرنسی (روپیہ) وغیرہ دیتے ہیں، تو کیا اس میں بھی اسی وقت دینا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو جائز کی کیا صورت ہوگی؟

جواب:۔

روپیہ کا تبادلہ روپیہ کے ساتھ جائز ہے، مگر رقم دونوں طرف برابر ہو، کمی بیشی جائز نہیں، اور دونوں طرف سے نقد معاملہ ہو، اُدھار بھی جائز نہیں۔(۱)

جواب:۔

رقم قرض لے لے، بعد میں قرض ادا کردے۔

جواب:۔

اس میں معاملہ نقد کرنا ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) (وعلتہ) أی علۃ تحریم الزیادۃ (القدر) المعھود بکیل أو وزن (مع الجنس فإن وجدا حرم الفضل) أی الزیادۃ (والنسا) بالمدّ التأخیر فلم یجز بیع قفیز برٍّ بقفیز منہ متساویًا وأحدھما نسأ (وإن عدما) بکسر الدال من باب علم (حلا) کھروی بمرویین لعدم العلّۃ فبقی علٰی أصل الْإباحۃ (وإن وجد أحدھما) أی القدر وحدہٗ أو الجنس (حلّ الفضل وحرم النسأ)۔ (در الدر المختار ج:۵ ص:۱۷۲، باب الربا، طبع سعید، وأیضًا فی الھدایۃ ج:۳ ص:۷۹، باب الربا)۔
  2. (۲) بخلاف ما إذا سلم فلوس فی فلوس فإنہ لَا یجوز لأن الجنس بانفرادہ یحرم النسأ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۴۰ باب الربا، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔