خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
جمعہکیاَذانکےبعدخریدوفروختکرنا
سوال:۔
سنا ہے کہ جمعہ کی اَذان کے بعد خرید و فروخت کرنا بالکل حرام ہے، کیا یہ ٹھیک ہے؟ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو کون سی اَذان کے بعد؟ یعنی پہلی اَذان کے بعد یا دُوسری اَذان کے بعد؟
جواب:۔
قرآنِ کریم میں اَذانِ جمعہ کے بعد خرید و فروخت کی ممانعت فرمائی گئی ہے، اس لئے جمعہ کی پہلی اَذان کے بعد خرید و فروخت اور دیگر کاروبار ناجائز ہے:(۱)
ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ﵞ الجمعة ٩
- (۱) وقال الحنفیۃ فی الأصح: یجب السعی بعد الأذان الأوّل ۔۔۔ ویکرہ تحریمًا عند الحنفیۃ ویحرم عند غیرھم التشاغل عن الجمعۃ بالبیع وغیرہ من العقود من إجارۃ ونکاح وصلح وسائر الصنائع والأعمال۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۲ ص:۲۶۴، البیع وقت النداء ۔۔۔إلخ)۔ أیضًا: البیع عند أذان الجمعۃ، یعنی الأذان الأوّل بعد الزوال لقولہ تعالٰی: وذرا البیع ۔۔۔ وھٰذا البیوع المذکورۃ مکروھۃ تحریمًا ۔۔۔ أخرج ابن مردویۃ عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: حرمت التجارۃ یوم الجمعۃ ما بین الأذان الأوّل إلی الْإقامۃ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۲ ص:۴۷)۔

