بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

نمازِ‌جمعہ‌کے‌وقت‌کاروبار‌کرنا‌اور‌فیکٹری‌چلانا

سوال:۔

ہماری مٹھائی کی دُکان ہے، اس کے اُوپر کارخانہ ہے، جمعہ کی پہلی اَذان کے وقت ہم اپنی دُکان بند کردیتے ہیں، پھر نماز کے بعد کھول لیتے ہیں۔ کیا ہم پر جمعہ کی نماز کے دوران کارخانہ بھی بند کرنا لازم ہے؟ یا کاریگروں کو اُن کے اِختیار پر چھوڑ دیں؟

جواب:۔

جمعہ کے دوران کسی قسم کا کاروبار بھی ممنوع ہے، حتیٰ کہ فیکٹری بھی چالو رکھنا جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَّوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ﵞ الجمعة ٩۔ عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: حرمت التجارۃ یوم الجمعۃ ما بین الأذان الأوّل إلی الْإقامۃ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۲ ص:۴۷، البیوع المنھی عنہ)۔ أیضًا: کان السعی للجمعۃ واجبًا حکمہ حکم الجمعۃ لأنہ ذریعۃ إلیھا: ﵟ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ ﵞ،والتبکیر إلیھا فضیلۃ وکان ترک أعمال التجارۃ من بیع وشراء ومختلف شؤون الحیاۃ أمرًا لَازمًا لئلا یتشاغل عنھا ویؤدی ذالک إلٰی إھمالھا أو تعطیلھا۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۲ ص:۲۶۲، المطلب الثانی، فضل السعی)۔