بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

بور‌آنے‌سے‌قبل‌آموں‌کا‌باغ‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

میرا آموں کا باغ ہے، جو کہ میں ہر سال ’’بور‘‘ یعنی پھل آنے پر ٹھیکے پر دیتا ہوں، کچھ زمیندار حضرات آموں کے باغات ’’بور‘‘ یعنی پھل آنے سے پہلے دو دو سال کے لئے ٹھیکے پر دیتے ہیں، حالانکہ ان باغات میں ابھی بور نہیں آیا ہوتا، آپ میری قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا ’’بور‘‘ یعنی پھل آنے پر ٹھیکے پر دینا جائز ہے؟ یا وقت سے پہلے باغ ٹھیکے پر دینا جائز ہے؟

جواب:۔

بور آنے سے پہلے آم فروخت کرنے کا کوئی جواز نہیں،(۱) البتہ ایک صورت یہ ہے کہ اتنے عرصے کے لئے آپ اس پوری زمین کو ٹھیکے پر دے دیں اور اس کی میعاد مقرّر کرلیں کہ فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک۔(۲)

  1. (۱) وأما الذی یرجع إلی المعقود علیہ، فأنواع، منھا أن یکون موجودًا، فلا ینعقد بیع المعدوم وما لہ خطر العدم ۔۔۔ وکذا بیع الثمر والزرع قبل ظھور لأنھا معدومان ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۵ ص:۱۳۸)۔
  2. (۲) والحیلۃ أن یأخذ الشجر معاملۃ علٰی أن لہ جزء من ألف ویستأجر الأرض مدۃ معلومۃ یعلم فیھا الْإدراک باقی الثمن ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار، مطلب فساد المتضمن یوجب فساد المتضمن ج:۴ ص:۵۵۷، طبع ایچ ایم سعید)۔