خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
گنےکیکھڑیفصلاسشرطپرخریدناکہمالکاسکیحفاظتکرےگا
سوال:۔
ہمارے ہاں زیادہ تر کاشت گنے کی فصل کی ہوتی ہے، جب شکر کے کارخانوں میں کام ہوتا ہے اور سیزن ہوتا ہے تو گنا ۳۶روپے من کے حساب سے خریدتے ہیں، ۴روپے من ٹرک کا کرایہ کاٹنے کے بعد ۳۲روپے من کے حساب سے کاشت کار کو کارخانہ ادائیگی کرے گا۔ ابھی چونکہ کارخانے میں شکرسازی کا کام اور سیزن شروع ہونے میں چار ماہ باقی ہیں، تو کاشت کار اپنی ضرورت کے پیشِ نظر یہ گنا ۲۰روپے سے لے کر ۲۴روپے فی من کے حساب سے بیوپاریوں کو فروخت کر رہے ہیں، چونکہ گنا ابھی کھیت میں ہی ہے اور شوگرمل میں کام کے آغاز تک اس کی دیکھ بھال بھی کاشت کار کے ذمے ہوگی، جب کارخانے میں کام کا آغاز ہوگا تو کاشت کار وہ گنا کٹواکے کارخانے میں بیوپاری کے نام بھیجے گا اور یوں چار یا پانچ ماہ کے بعد بیوپاری کو تقریباً ۱۰ یا ۱۲روپے فی من کے حساب سے منافع ہوگا۔
آپ سے پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ اس قسم کا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ منافع سود میں تو شامل نہیں ہوگا؟
جواب:۔
گنے کا بیچنا تو صحیح ہے، لیکن بیچنے کے بعد اس کا کاٹنا ضروری ہے، اور اس شرط پر کہ گنا کھڑا رہے گا، یہ صحیح نہیں۔(۱)
- (۱) ومن باع ثمرۃ ۔۔۔ وجب علی المشتری قطعھا فی الحال تفریعًا لملک البائع فھٰذا إذا اشتراھا مطلقًا أو بشرط القطع اما إذ أشرط ترکھا علٰی رؤس النخل فسد البیع لأنہ شرط لَا یقتضیہ العقد۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۹۲، کتاب البیوع)۔ وأیضًا: ویجب علی المشتری فی الحال قطعھا أی قطع ثمرۃ ۔۔۔ وشرط ترکھا علی الشجر والرضی بہ یفسد البیع عندھما وعلیہ الفتویٰ کما فی النھایۃ۔ (جامع الرموز ج:۳ ص:۱۱ کتاب البیع، طبع اسلامیہ ایران)۔

