خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
پھلآنےسےقبلباغبیچناجائزنہیںبلکہزمینکرائےپردیدے
سوال:۔
ایک شخص قبل پھل آنے کے اپنا باغ بیچ دیتا ہے، کیا اس پر عشر ہے؟ اس کی رقم سال بھر رہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟
جواب:۔
پھل آنے سے قبل باغ بیچ دینا جائز نہیں،(۱) اور اگر یہ مراد ہے کہ باغ کی زمین مع باغ کے کرائے پر دے دی تو صحیح ہے،(۲) اس صورت میں عشر اس کے ذمہ نہیں، البتہ سال پورا ہونے پر اس کے ذمہ زکوٰۃ ہوگی۔(۳)
- (۱) وأما الذی یرجع إلی المعقود علیہ، فأنواع، منھا أن یکون موجودًا، فلا ینعقد بیع المعدوم وما لہ خطر العدم ۔۔۔ وکذا بیع الثمر والزرع قبل ظھور لأنھا معدومان ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۵ ص:۱۳۸، کتاب البیوع)۔
- (۲) لو اشتری الرطبۃ بأصلھا لیقلعھا ثم استأجر الأرض لیبقیھا جاز ولو استأجر الأرض فی ذٰلک کلہ جاز۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۴۴۷)۔
- (۳) رجل آجر أرضہ ثلاث سنین کل سنۃ ثلٰثمائۃ درھم فحین مضٰی ثمانیۃ أشھر ملک مائتی درھم فینعقد علیہ الحول فإذا مضٰی حول بعد ذٰلک یزکّٰی ثمانمائۃ إلّا ما وجب علیہ من زکاۃ خمسمائۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۱)۔

