بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

محنت‌کی‌اُجرت‌لینا‌جائز‌ہے

سوال:۔

ہم فریج اور ایئرکنڈیشن کا کام کرتے ہیں، اگر کسی صاحب کے فریج یا ایئرکنڈیشن میں گیس چارج کرنا ہو تو ہم کاریگر ان سے ساڑھے تین سو روپے وصول کرتے ہیں، جبکہ اس سے بہت کم خرچہ آتا ہے۔ کام میکینکل ہے لہٰذا محنت اور دانشمندی سے کرنا پڑتا ہے، غلطی کی صورت میں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے، جس کا ہرجانہ کاریگر کے ذمہ ہوتا ہے۔ بتائیے زائد رقم لینا دُرست ہے یا نہیں؟ اگر نہ لیں تو کاروبار کرنا فضول ہوگا۔

سوال۲:۔

اس میکینکل کام میں بعض اوقات کسی فنی خرابی یا کوئی اور خرابی دُور کرنے میں پیسہ خرچ نہیں ہوتا، مگر ہم لوگ نوعیت کے اعتبار سے ۵۰ یا ۱۰۰ روپے وصول کرتے ہیں، کیونکہ دماغ کا کام ہوتا ہے۔ بتائیے ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:۔

یہ محنت کی اُجرت ہے، اور محنت کی اُجرت لینا جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) (وأما بیان أنواعھا) فنقول انھا نوعان: نوع یرد علٰی منافع الأعیان ۔۔۔ یرد علی العمل کاستئجار المتحرفین للأعمال ۔۔۔ وأما حکمھا فوقوع الملک فی البدلین ساعۃ فساعۃ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۴ ص:۴۱۱)۔